سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 36
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 16 ہمارے جلسوں اور اجتماعات کا اصل مدعا اور مقصد یہ ہے کہ تمام افرادِ جماعت کے دل بکلی آخرت کی طرف جھک جائیں ”میرے پیارے بھائیو ! ( مجلس انصار اللہ کیرالہ ) السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ الحمد لله که مجلس انصاراللہ کیرالہ اپنا 2 روزہ سالانہ اجتماع کروانے کی توفیق پارہی ہے۔ اللہ اس اجتماع کو بہت مبارک فرمائے اور تمام انصار بھائیوں کو جو اس اجتماع میں شرکت کے لئے سفر کر کے آرہے ہیں اپنی حفاظت میں رکھے اور اس اجتماع کے روحانی اور تربیتی پروگراموں سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے۔ ہمارے جلسوں اور اجتماعات کا اصل مدعا اور مقصد یہ ہے کہ تمام افراد جماعت کے دل بکلی آخرت کی طرف جھک جائیں۔ اور ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد و تقویٰ اور پرہیز گاری میں دوسروں کے لئے نمونہ بن جائیں اور انتہائی انکسار اور تواضع اور استبازی ان میں پیدا ہو ۔ دنیا کفر و ضلالت اور مادہ پرستی میں گم ہو کر اپنے خالق حقیقی کو بھلا چکی ہے اور وہ لوگ جو بظاہر مسلمان کہلاتے ہیں وہ در حقیقت اس وقت خدا سے دور جا پڑے ہیں۔ امانت اور دیانت ناپید ہو چکی ہے اور دل تقویٰ سے عاری ہیں۔ جھوٹ، نخوت، تکبر اور خود پسندی نے انسانیت کی جڑوں کو کھو کھلا کر دیا ہے۔ اس دور میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا قیام اس غرض سے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور پیار لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو اور وہ انسان جو خدا سے دور ہو رہا ہے اسے پیار اور محبت ، سے سمجھا کر خدا کے قریب لایا جائے۔ اس سلسلہ میں ہم پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم خود اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق قائم کریں اور اس کے حقیقی عبد بن جائیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: نفسانی جذبات کو بکلی چھوڑ کر خدا کی رضا کے لئے وہ راہ اختیار کرو جو اس سے زیادہ کوئی راہ تنگ نہ ہو۔ دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جدا کرتی ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی