سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 344 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 344

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 324 (projection) مل رہی ہو ، ہمسایہ کی طرف سے بھی اور پھر علاقہ میں بھی تو پھر حق میں آواز بلند ہوتی ہے۔ جس طرح کہ آج جامعہ (جرمنی) کے سنگ بنیاد کے موقع پر ہوا۔ میئر نے بھی اور دوسرے مہمان نے بھی کھلے دل کے ساتھ آپ کے حق میں اظہار کیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس لئے پوری ریسرچ کریں اور جائزہ لیں کہ ہم کس طرح کے پودے لگا سکتے ہیں۔ گلوبل وارمنگ (global warming) کا آج کل بڑا شور ہے۔ اگر آپ اس طرح کے کام کر رہے ہوں گے تو کوئی پتہ نہیں کہ کسی وقت حکومت آپ کی مدد کرنی شروع کر دے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نئے راستے نکالنا اصل کام ہے۔ صرف جوانوں کے جو ان کا خطاب لے لینا اصل کام نہیں ہے۔ قائد دعوت الی اللہ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ آپ نے دعوت الی اللہ کا ٹارگٹ کیا رکھا ہے۔ جس پر موصوف نے بتایا کہ مشرقی جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک حصہ خدام کو اور ایک حصہ انصار کو دیا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا وہاں کے لوگوں کو دین حق سے دلچسپی ہے کہ نہیں، انہوں نے چالیس سال بھو کے رہ کر گزارے ہیں۔ اب ان کو کھانے پینے ، دولت اور عیاشی سے غرض ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا شہروں سے باہر نکلیں اور چھوٹی جگہوں پر رابطے کریں، کونسل سے رابطے کریں، گھروں سے رابطے کریں، سیمینار منعقد کریں، interfaith کا نفرنس کا انعقاد کریں اور ایسے عناوین لئے جائیں کہ لوگوں میں دلچسپی پیدا ہو۔ مثلاً خدا تعالیٰ کا وجود، دین حق امن و سلامتی کا مذہب ہے ، تیسری جنگ عظیم سے کس طرح بچا جا سکتا ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ کہنا غلط ہے کہ جرمنی میں دلچسپی نہیں ہے۔ بڑے شہروں میں کم ہو گی لیکن چھوٹی آبادیوں اور دیہاتوں میں آپ کو لوگ ملیں گے، آہستہ آہستہ تعارف حاصل ہو گا۔ بڑے شہروں میں تو دنیا داری ہے۔ یہ لو لوگ اپنے سیاسی رابطے رکھیں گے یا پھر علم رکھنے کی وجہ سے، بعض معلومات کے حصول کے لئے رابطہ رکھیں گے کہ کیا ہو رہا ہے۔ جو لوگ شہر سے باہر ہیں ان پر بیشک میڈیا کا اثر ہوتا ہے لیکن شہر کے ہلے گلے کا