سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 317
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 297 پاؤ گے یعنی تم کامیاب ہو گے۔ تم اپنی زندگی کے مقصد کو پانے والے ہو گے۔ اور جو لوگ اپنی زندگی کے مقصد کو پالیں وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لیتے ہیں بشر طیکہ ان کی زندگی کا مقصد وہ ہو جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے رکھا ہے۔ اور ہماری پیدائش کا مقصد عبادت اور اس کے نام کی بڑائی ہے۔ اس کی مخلوق کی خدمت اور اس کے پیغام کو پہنچانا ہے۔ پس جب آپ کہتے ہیں نَحْنُ انْصَارُ اللهِ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مدد گار ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم لوگ کامیاب ہو جاؤ گے۔ پس ہم میں سے ہر ایک کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم فلاح کے راستے تلاش کرتے چلے جائیں اور ان راستوں پر قدم مارتے چلے جائیں۔ ان حواریوں نے جن سے اللہ تعالیٰ نے یہ خطاب فرمایا کہ میں تمہیں کامیاب کروں گا۔ دوسرے یہ فرمایا کہ وَ اشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (آل عمران: 53) کہ گواہ بن جاؤ کہ ہم فرمانبردار ہیں۔ پس آج ہم میں سے ہر ایک کو یہ اعلان کرنا چاہیے کہ ہم نے جو یہ باتیں سنیں تو ہم کامل فرمانبرداری اور کامل اطاعت سے اللہ تعالیٰ کے انصار بننے کا اعلان کرتے ہیں۔ پس اطاعت کے نمونے دنیا کو دکھا دیں، اخلاص کے نمونے دنیا کو دکھا دیں، خلافت کے لئے ہر قربانی کے لئے ہر وقت تیار رہنے کے نمونے دنیا کو دکھا دیں، تبلیغ کے نمونے بڑی شان سے دنیا کو دکھا دیں، تربیت کے نمونے پہلے سے بڑھ کر اپنے گھروں میں قائم کر دیں، دعا اور عبادت کی طرف پہلے سے بڑھ کر توجہ کرنے والے ہوں۔ یہی چیزیں ہیں جو آپ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے قائم کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں گے۔ اور پھر انشاء اللہ آپ بھی ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد کے نظارے دیکھیں گے اور نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ کہہ کر نہ صرف مدد کر رہے ہوں گے بلکہ اُس کے نتیجہ میں آپ کو اپنے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے نظر آ رہے ہوں گے۔ کامیابیاں آپ کے قدم چومیں گی۔ جنہوں نے نَحْنُ انْصَارُ اللہ کہا تھا ، ان کا کہنا اور کوششیں اسی حد تک نہیں تھیں کہ انہوں نے نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ کہہ دیا اور بات ختم ہو گئی بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مد د کا ہی نظارہ تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا وہاں دوسری آیت میں فرمایا: فَأَيَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَى عَدُوِّهِمْ فَأَصْبَحُوا