سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 309
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 289 انصار ہونے کا حق ادا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے جائزے لیتے رہیں پھر یہ کہ جب آپ نے نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ کہا تو تعاون باہمی جو ہے ، تعلقات جو ہیں ، ان میں آپ کے رویے اعلیٰ معیار رکھنے والے ہونے چاہئیں۔ پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں اور اس لئے پیدا کی ہیں کہ ان تبدیلیوں کی وجہ سے اسلام کی صحیح اور خوبصورت تصویر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ جب یہ حالت ہو گی تو پھر ہی آپ انصار اللہ کہلائیں گے اور تبھی آپ سچے مومن کہلائیں گے۔ آپ نے ایسے نمونے قائم کرتے ہوئے، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا، خدام الاحمدیہ کو بھی اپنے اوپر چلانے کی کوشش کرنی ہے ، وہ آپ کے بچے ہیں۔ اطفال کو بھی اوپر چلانے کی کوشش کرنی ہے۔ لجنہ کے لئے بھی وہ نمونے قائم کرنے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ عورت سب سے زیادہ اپنے خاوند کی رازدار ہوتی ہے۔ اس لئے اس کے سامنے بہترین نمونے پیدا کرو تا کہ اس کی تربیت ہو۔ جب اس کی تربیت ہو گی تو آپ کی اولاد کی تربیت ہو گی۔ جب آپ کی اولاد کی تربیت ہو گی تو آئندہ نسلوں کی تربیت ہو رہی ہو گی۔ اور جب آئندہ نسلوں کی تربیت ہو رہی ہو گی تو ہم آئندہ ایسی قوم کی تربیت کر رہے ہوں گے جس نے ساری دنیا میں اسلام کا جھنڈ الہرانا ہے۔ یہ تسلسل سے کئے جانے والا کام ہے جس کی ذمہ داری انصار اللہ پر سب سے بڑھ کر ہے۔ پس ہمیشہ اس بات کا خیال رکھیں کہ یہ ذمہ داریاں ہیں جو آپ نے نبھانی ہیں۔ سچے مومن کی نشانی بھی یہی ہے ، جیسا کہ میں نے کہا، مومن جب عہد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ منہ نہیں پھیر تا۔ اگر پھیرے تو انصار اللہ ہونے کا یا مومن ہونے کا دعویٰ ہی فضول ہے۔ جو منہ پھیرنے والے لوگ ہیں ایسے لوگوں کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى حَرْفٍ (الحج: 12) یہ اللہ تعالیٰ کی سرسری عبادت کرنے والے ہیں۔ منہ سے کہہ دیا کہ ہم عبادت کرنے والے ہیں، ہم مدد کرنے والے ہیں لیکن حقیقت میں یہ لوگ نہیں ہیں، ان کے دلوں میں کچھ اور ہے، ان کا ایمان کامل نہیں ہے۔ پس بڑے خوف کا مقام ہے ہماری عمر بڑھ نہیں رہی، عمر کم ہو رہی ہے، آخری وقت قریب آرہا ہے جس کے لئے ہمیں تیاری کرنی