سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 308 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 308

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 288 روک لیا کہ تم اس شہر میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک یہ اعلان نہ کرو کہ میں اس شہر کا ذلیل ترین آدمی ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معزز ترین انسان ہیں۔ یہ الفاظ کہلوائے اور پھر اسے جانے دیا ور نہ یہ اعلان کیا کہ میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ تو یہ وہ لوگ تھے جو انصار بنے اور انصار ہونے کا حق ادا کر دیا۔ یہ ہے ایمان جس کا آج ہم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے، مگر کسی کی گردن اڑانے کیلئے نہیں۔ قرآنی تعلیم کو لاگو کرنے کے لئے انصار ، صف اول کے مجاہدین ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے بعد تو دین کے نام پر تلوار اٹھانا بند ہو گیا ہے۔ يَضَعُ الْحَرْب والی حدیث تو واضح ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن جو جہاد ہے جس کے لئے ہمیں بلایا جا رہا ہے وہ نفس کا جہاد ہے، اپنی حالتوں کو درست کرنے کا جہاد ہے، اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا جہاد ہے، اپنے اندر اور اپنے خاندان میں قرآنی تعلیم کو لاگو کرنے کا جہاد ہے، اللہ تعالیٰ کے پیغام کو تبلیغ کے ذریعہ سے لوگوں تک پہنچانے کا نام جہاد ہے۔ یہ وہ کام ہیں جو اس زمانہ میں ہم نے کرنے ہیں اور اس کے لئے انصار اللہ صف اوّل کے مجاہدین ہونے چاہئیں کیونکہ انہوں نے نعرہ لگایا ہے نَحْنُ أَنْصَارُ اللهِ۔ پس آپ کا نام انصار اللہ رکھنے میں یہ حکمت ہے کہ چالیس سال کے بعد یہ نہ سمجھیں کہ ہم اب بوڑھے ہو گئے ہیں ، اب ہماری ذمہ داریاں ختم ہو گئی ہیں، نہیں۔ بلکہ آپ کی ذمہ داریاں پہلے سے بڑھ گئی ہیں۔ پہلے تو آپ ایک خادم تھے۔ خادم کو ایک حکم دیا جاتا ہے کہ یہ کرو یا فلاں کام کرو۔ اس نے فلاں کام کرنا ہے وہاں چلے جاؤ۔ وہی کام کرتا رہے گا۔ لیکن آپ لوگ اب اگلی منزل پر قدم رکھ چکے ہیں۔ انصار اللہ کہلانے والے ہیں تاکہ ہر معاملہ میں آپ خود آگے بڑھ کر دین کے مدد گار بننے والے ہوں۔ پس یہ چیز آپ کو بن کے دکھانی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے ہر دم تیار رہنا ہے۔ انصار اللہ کے جو تبلیغی پروگرام ہیں سب سے بڑھ کر مؤثر ہونے چاہئیں۔ پس اس طرف خاص طور پر توجہ دیں۔