سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 299 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 299

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 279 حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پھر صرف یہ قربانیاں نہیں بلکہ جنگ جب ہوئی، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا صحابہ سے کہ دشمن حملہ کرنے لگا ہے کیا رائے ہے تمہاری ؟ جب آپ نے بار بار پوچھا تو انصار کو خیال آیا کہ ہم سے پوچھا جا رہا ہے کہ تمہاری کیا رائے ہے تو انصار نے جواب دیا کہ حضور جب تک ہمیں اسلام کا پوری طرح فہم و ادراک نہیں تھا اور آپ کے نام کی پہچان نہیں تھی تب ہم نے کہا تھا کہ ہم ان شرطوں کے ساتھ آپ کی حفاظت کریں گے۔ لیکن آج جب ہمیں پوری طرح فہم و ادراک حاصل ہو گیا ہم وہ لوگ ہیں جو آپ کے آگے بھی لڑیں گے ، آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے ، آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔ تو یہ وہ مقام ہے جو اس زمانہ میں انصار اللہ نے پایا۔ اور یہ وہ مقام ہے جس کے حاصل کرنے کی آپ سے توقع کی جاتی ہے بلکہ انصار کے وہ بچے جو ان کے ساتھ جنگ میں شامل ہوئے بالغ اور صاحب فراست انصار نہیں تھے ان میں بھی ایسے بچے تھے جیسے معوذ اور معاد کی مثال دی جاتی ہے جنہوں نے اپنی جان قربان کر دی اور دشمن اسلام کو قتل کر کے رکھ دیا۔ ابو جہل کو زمین میں خاک وخون میں لپٹا دیا۔ تو یہ روح جب تک بڑوں میں پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک بچوں میں پیدا نہیں ہو سکتی۔ ان بچوں نے بھی تو بڑوں سے ہی سنا تھا کہ کون ہے وہ اسلام کا دشمن ، کون ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن جس نے اس حد تک آپ کو تکلیفیں دیں، ہم ہوں گے اس کو قتل کرنے والے اور اس کو خاک آلود کرنے والے۔ تو یہ جذبہ جب تک آپ لوگوں میں پیدا نہیں ہو گا، آپ اس جذبے کو آگے اپنے بچوں اور اولادوں میں پیدا نہیں کر سکتے۔ اپنے اخلاق کے معیار بلند کریں، اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دیں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پس اس روح کو سمجھیں۔ آپ نے مسیح محمدی کے ساتھ ایک عہد کیا۔ مسیح موسوی کے حواریوں نے تو عہد نبھایا تھا۔ اب آپ کا فرض ہے ، اس زمانے میں آپ نے وہ پ نے وہ عہد نبھانا ہے اور اس وقت ان ملکوں میں رہ میں رہنے والے خاص طور پر، یہاں تلوار اور توپ کی جنگ تو نہیں ہے یا کسی قسم کا خوف اور جان کو خطرہ نہیں ہے جس طرح پاکستان