سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 294
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 274 اپنا حق نبھانے کی کوشش کریں گے۔ کپڑے صاف کر کے دھونا، دھونا کسی کو صاف کرنے کے لئے۔ اس سے ایک ذمہ داری یہ بھی آپ پر پڑی کہ اپنے دلوں کو بھی دھونا ہے اور دوسروں کے دلوں کو بھی دھونا ہے۔ اور ہر آزمائش سے کامیابی سے گزرنا ہے۔ آج کل کی دنیا میں ، ان ملکوں میں ہزاروں آزمائشیں آپ کے رستہ میں ہوں گی۔ آپ کے کام ہیں ، آپ کی مصروفیات ہیں لیکن دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد کیا ہے اس کو پورا کرنا ہے۔ تبھی آپ انصار اللہ کہلائیں گے ۔ تبھی آپ وہ حواری کہلائیں گے جنہوں نے انصار الله ہونے کا حق ادا کیا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپ کا کردار ایسا ہو جس میں کوئی ملونی اور ملاوٹ نہ ہو۔ جو کہا ہے اس پر عمل کرنا ہے۔ یہ نہیں کہ عمل کچھ اور ہوں اور کہہ کچھ اور رہے ہوں۔ مسجد میں آئیں تو اور رویے ہوں، باہر جائیں تو اور رویے ہوں۔ کہنے کو احمدی ہوں اور نمازوں کی ادائیگی کی طرف بے رغبتی ہو۔ انصار اللہ کی عمر ایک ایسی عمر ہے جس میں ویسے ہی خیال آجانا چاہیے کہ ہماری عمر گھٹ رہی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ عمر بڑھ رہی ہے۔ لیکن جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے اصل میں تو آپ کی عمر میں کمی آتی جارہی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ نظم جو ابھی پڑھی گئی ہے اس میں یہی توجہ دلائی ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کہ دنیا تو ایک عارضی ٹھکانہ ہے آخر مرنا ہے اور جب مر کر اللہ تعالیٰ کے حضور جانا ہے اور یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں جواب دہی ہونی ہے تو اس چیز کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے۔ پھر جیسا کہ میں نے بتایا کہ ایسا حواری ہو جو مشورے دے تو پوری ایمانداری سے دے۔ آپ میں سے عہدیدار بھی ہیں۔ آپ میں سے عام احمدی بھی ہیں جو عہدیدار منتخب کرتے ہیں۔ آپ جب بھی اپنے عہدیدار کو منتخب کریں تو ایسے عہدیداروں کو منتخب کریں جو آپ کے نزدیک ایماندارانہ رائے رکھتے ہوں۔ انتہائی قابل اعتماد شخص اور جماعت کے ساتھ وفا کا تعلق رکھنے والے اور خدمت کرنے والے ہوں۔