سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 293 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 293

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 273 دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد کیا ہے اس کو پورا کرنا ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قرآن کریم میں انصار اللہ کا لفظ دو جگہ آیا ہے اور ہر جگہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حوالہ سے بات کی گئی ہے۔ آپ نے اپنے ماننے والوں سے پوچھا کہ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى الله (الصف: 15) کہ کون ہیں جو اللہ کی طرف بلانے میں میرے انصار ہوں گے۔ تو حواریوں نے یہی جواب دیا نَحنُ اَنْصَارُ اللهِ کہ ہم ہیں وہ انصار وہ مدد گار جو اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچانے کے لئے آپ کے مدد گار ہوں گے۔ یہ ایک عہد تھا جو انہوں نے کیا اور نبھانے کی شش کی اور یہی عہد آپ بھی کر رہے ہیں۔ آپ کو نام دیا گیا ہے انصار اللہ کا۔ صرف نام دینا کافی نہیں ہے۔ ہر وقت یاد رکھیں کہ اسلام کی روح کیا ہے۔ اسلام کے اندر کیا کیا گہری باتیں ہیں جن کا ہم نے خیال رکھنا ہے۔ جن کا ہمیں ہر وقت احساس ہونا چاہیے۔ حواری کا مطلب کیا ہے ؟ حواری کا مطلب ہے جو کپڑے دھو کر صاف جو کپڑے دھو کر صاف کرے ایسا شخص حواری کہلاتا ہے جو دھلائی کرنے والا ہو ۔ کپڑوں کی دھلائی کر کے ان کو صاف کر دینے والا ہو۔ پھر حواری کا مطلب ہے ایسا شخص جو امتحانوں سے آزمایا جائے اور ان میں سے کامیاب ہو کر نکلے، کبھی کمزوری دکھانے والا نہ ہو۔ پھر حواری ایسے شخص کو بھی کہتے ہیں جس کے کردار میں کوئی ملونی اور ملاوٹ نہ ہو۔ ایسا پاک صاف کردار ہو کہ جو کہہ رہا ہے اس پر عمل بھی کر رہا ہے۔ اب آپ گہرائی میں جا کر دیکھیں کہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے جو انصار اللہ پر پڑتی ہے۔ جو یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم انصار اللہ ہیں۔ پھر حواری اس کو کہتے ہیں کہ جس کے مشورے اور عمل ایمانداری اور وفا کے ساتھ ہوں۔ پھر حواری کا ایک مطلب یہ ہے کہ سچا، وفادار دوست اور مدد گار۔ پھر حواری کے ایک معنی یہ ہیں نبی کا خاص چنیدہ اور وفادار ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب یہ سارے مطلب آپ دیکھیں تو ایسے ہیں جو ایک بہت بڑی ذمہ داری ڈالتے ہیں اور ان رشتوں سے ، ان تعلقات سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ