سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 282
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 262 بعد تیرے اس کام کی تکمیل کی انتہائیں کس طرح حاصل ہوں گی۔ تو یاد رکھ کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق جسے میری تائید حاصل ہے اب خلافت علی منہاج النبوۃ تا قیامت قائم ہوتی ہے ، اس لئے تیرے بعد یہی نظام خلافت ہے جس کے ذریعہ سے میں تمام دنیا میں اپنی آخری شریعت کے قیام و استحکام کا نظام جاری کروں گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی آپ کو تسلی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: دو ” یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے، جیسا کہ وہ فرماتا ہے كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي ( سورۃ المجادلہ: 22) اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اسی طرح خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔ لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھہ کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر نا تمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔ غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔ (1) خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (2) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بد قسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اخیر تک صبر