سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 281
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 261 خلافت علی منہاج النبوۃ تا قیامت قائم ہوئی ہے میرے پیارے عزیز احباب جماعت ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته آج خلافت احمدیہ کے سو سال پورے ہو رہے ہیں۔ یہ دن ہمیں سو سال سے زائد عرصے میں پھیلی ہوئی جماعت احمدیہ کی تاریخ اور اس وقت کی یاد بھی دلاتا ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مارچ 1889ء میں اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نے اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر ایک پاک جماعت کے قیام کا اعلان کیا۔ آپ کا مشن اور اس جماعت کے قیام کا مقصد خدا اور بندے میں تعلق پیدا کرنا، بنی نوع انسان کو خدائے واحد کے آگے جھکنے والا بننے کی تعلیم دینا اور اس کے لئے کوشش کرنا، تمام اقوام عالم کو اُمت واحدہ بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا، انسان کو انسان کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانا تھا۔ وہ شخص جس کو خدا تعالیٰ نے زمانے کے امام اور مسیح و مہدی کے لقب سے ملقب کر کے بھیجا تھا، قیام جماعت اور آغاز بیعت 1889ء سے 1908ء تک تقریباً انیس سال اللہ تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت سے اپنے مشن کو تمام تر مخالفتوں اور نامساعد حالات کے باوجود اس تیزی سے لے کر آگے بڑھا کہ ہر مخالف جو بھی اس جری اللہ کے مقابلہ پر آیا ذلت ورسوائی کا منہ دیکھنے والا بنا۔ آخر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے مطابق کہ ہر انسان جو اس فانی دنیا میں آیا اس نے آخر کو اس دنیا کو چھوڑنا ہے اور وہ شخص جو اللہ کا خاص بندہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق صادق تھا، وہ تو اپنے آقا کی سنت کی پیروی میں رفیق اعلیٰ سے ملنے کے لئے ہر وقت بے چین رہتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس بندے کو جسے امام آخر الزمان بنا کر بھیجا تھا، واپسی کے اشارے دیتے ہوئے یہ تسلی دی کہ گو تیرا وقت اب قریب ہے لیکن چونکہ تجھے میں نے اپنے اعلان کے مطابق امام آخر الزمان بنایا ہے ، اس لئے اے میرے پیارے ! اے وہ شخص جو میری توحید کے قیام اور میرے محبوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت تمام دنیا میں قائم کرنے کا درد رکھتا ہے تو یہ فکر نہ کر کہ تیرے مرنے کے