سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 278 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 278

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 258 خلافت کے انعام سے فائدہ اٹھانے کے لئے قیام نماز سب سے پہلی دو شرط ہے ” یہ سال جس میں جماعت ، خلافت کے 100 سال پورے ہونے پر جوبلی منارہی ہے، یہ جو بلی کیا ہے؟ کیا صرف اس بات پر خوش ہو جانا کہ ہم جو بلی کا جلسہ کر رہے ہیں یا مختلف ذیلی تنظیموں نے اپنے پروگرام بنائے ہیں یا کچھ Souvenirs بنالئے گئے ہیں۔ یہ تو صرف ایک چھوٹا سا اظہار ہے۔ اس کا مقصد تو ہم تب حاصل کریں گے ، جب ہم یہ عہد کریں کہ اس سوسال پورے ہونے پر ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اس نعمت پر جو خلافت کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر اتاری ہے، ہم شکرانے کے طور پر اپنے خدا سے اور زیادہ قریبی تعلق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اپنی نمازوں اور اپنی عبادتوں کی حفاظت پہلے سے زیادہ بڑھ کر کریں گے اور یہی شکران نعمت اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو مزید بڑھانے والا ہو گا۔ قرآن کریم میں جہاں مومنوں سے خلافت کے وعدے کا ذکر ہے۔ اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاقِيمُوا الصَّلوةَ وَآتُوا الزَّکٰوةَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُون (النور : 57) اور تم سب نمازوں کو قائم کرو، زکوۃ دو اور اس رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ پس یہ بات ثابت کرتی ہے کہ خلافت کے انعام سے فائدہ اٹھانے کے لئے قیام نماز سب سے پہلی شرط ہے۔ پس میں جو یہ اس قدر زور دے رہا ہوں کہ ہر احمدی مرد، جوان، بچہ ، عورت اپنی نمازوں کی طرف توجہ دے تو اس لئے کہ انعام جو آپ کو ملا ہے اس سے زیادہ سے زیادہ آپ فائدہ اٹھا سکیں۔“ (خطبه جمعه فرمودہ 18 اپریل 2008ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 6 صفحہ 166)