سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 251 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 251

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 231 آمدن، نشستن اور برخاستن یعنی آئے، میٹنگ میں بیٹھے ، بڑی بڑی سکیمیں بنائیں اور اٹھ کر چلے گئے، کے رجحان کو ختم کریں۔ اپنے کاموں کی اور میٹنگز میں طے پانے والے امور کی تعمیل کا با قاعدہ جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔ جب کوئی نیا شخص کسی عہدہ پر آتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ پچھلی فائلوں کو ضرور پڑھ لے تا کہ اسے علم ہو جائے کہ پہلے کیا کمیاں اور نقائص رہ گئے تھے جنہیں اسے دور کرنا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنا پروگرام بنائے۔ اگر تربیتی کورس بنا کر نو مبائعین کو بھجوائے جائیں اور ان کا با قاعدہ جائزہ لیا جاتا رہے تو تین سال بعد ان نو مبائعین کو جماعت کی main stream میں شامل ہو جانا چاہیے ، پھر انہیں نومبائعین کے کورسوں (courses) کی ضرورت نہیں رہنی چاہیے۔ نماز بنیادی چیز ہے جو ہر نو مبائع کو پڑھنی چاہیے۔ سب سے پہلے انہیں نماز پڑھنی اور قرآن کریم پڑھنا سکھایا جائے۔ قرآن مکمل ہونے پر آمین کی طرز پر تقریب کا اہتمام کیا جا سکتا ہے، اس سے ان کا حوصلہ بڑھے گا۔ جن نو مبائعین کو نماز اور قرآن کریم پڑھنا آگیا ہے انہیں چند قرآنی سورتیں یاد کروائیں، پھر قرآن کریم کے ترجمہ سکھانے کی طرف توجہ دیں اور اس طرح انہیں با عمل احمدی بنائیں۔ داعیان کے سیمینار کی طرز کے ریفریشر کورسز کروائیں، ان کی مشکلات سنیں اور ان کو حل کرنے کی کوشش کریں نیز انہیں اپنے تجربات بیان کرنے کا موقع دیں تاکہ دوسرے داعیان بھی ان تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ لٹریچر کے متعلق حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس بارہ میں جرمنی کے حوالہ سے ساری دنیا کو ہدایات دے چکا ہوں، تین ملکوں کی طرف سے اس بارہ میں سکیمیں بھی بن کر آ گئی ہیں کہ آپ کی ہدایات کی روشنی میں ہم نے اس طرح کام کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔ آپ جو براہ راست میرے مخاطب ہیں آپ بھی کام کر کے بتائیں۔