سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 248

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 228 شامل رہیں جن سے اس انعام کا وعدہ ہے۔ اپنے بچوں کی صرف دنیاوی تعلیم پر ہی نظر نہ رکھیں بلکہ ان کو گھروں میں بھی دینی ماحول مہیا کریں۔ اپنے بچوں کو مسجدوں کے ساتھ ، نماز سنٹروں کے ساتھ جوڑیں، انہیں دین کا علم حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائیں۔ انہیں قرآن کریم پڑھنے کی طرف توجہ دلائیں۔ ایک دفعہ تو مائیں کسی طرح بچوں کو قرآن کریم پڑھا دیتی ہیں یا کسی ذریعہ سے، مدد سے پڑھا دیتی ہیں اور بچے کی آمین بھی ہو جاتی ہے لیکن اس کے بعد پھر نگرانی نہیں ہوتی ، تو یہ باپوں کا کام ہے کہ ان بچوں کو توجہ دلاتے رہیں۔ پھر نوجوانی میں قدم رکھنے کے بعد بچے باہر وقت گزارتے ہیں ، اس وقت وہ ماؤں کے ہاتھوں میں نہیں رہتے ، تو ان سے بھی ایسے دوستانہ تعلقات رکھیں کہ جب وہ گھر میں آئیں تو باہر کی باتیں آپ سے discuss کریں۔ اُنہیں پھر اچھے برے کا فرق سمجھائیں۔ اچھا کیا ہے ، برا کیا ہے۔ اسطرح کوشش کر کے جب آپ اپنی اگلی نسل کو سنبھالیں گے تو ان مومنین میں شمار ہوں گے جن کے ساتھ خلافت کا وعدہ ہے۔ پس عبادتوں میں بھی اپنے نیک نمونے قائم کریں کہ خلافت عبادت گزاروں کے ساتھ مشروط ہے۔ اپنی مالی قربانیوں کی طرف بھی توجہ دیں کہ خلافت سے اس کا بھی گہرا تعلق ہے اور اس زمانہ میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو نظام وصیت کے ساتھ جوڑ کر تعلق کو مزید واضح فرما دیا ہے۔ اور جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے تحریک جدید کے بارہ میں شروع میں فرمایا تھا کہ یہ بھی نظام وصیت کے ارہاص کے طور پر ہے۔ اس لئے جو نظام وصیت میں شامل نہیں ہو سکتے انہیں اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، جو شامل ہیں ان کو ان قربانیوں میں حصہ لینے سے مزید قربانیوں کی طرف توجہ پیدا ہو گی تاکہ خلافت کی مضبوطی اور اشاعت اسلام کیلئے چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب، جماعت کا ہر ممبر اور ہر فرد شامل ہو سکے۔ اس لئے بڑوں اور چھوٹوں میں مالی قربانیوں کی روح پیدا کریں۔ یہ بڑوں کا اور انصار اللہ کا کام ہے کہ روح پیدا کریں اور اطاعت رسول کے بھی اعلیٰ معیار قائم کریں اور پھر اطاعت خلافت اور نظام جماعت کی پابندی کے خود بھی اعلیٰ معیار قائم کریں اور اپنی اولادوں میں بھی اور اپنے بیوی بچوں میں بھی اس معیار کو قائم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ اطاعت اس نظام کو جاری رکھنے کیلئے انتہائی اہم ہے۔ حضرت