سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 244

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 224 جَنَّتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأَنْهُرُ خُلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (التوبہ: 100) اور مہاجرین اور انصار میں سبقت لے جانے والے اولین اور وہ لوگ جنہوں نے حسن عمل کے ساتھ ان کی پیروی کی اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے اور اس نے ان کیلئے ایسی جنتیں تیار کی ہیں جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں رہنے والے ہیں۔ یہ بہت عظیم کامیابی ہے۔ پس یہ لوگ ہیں جو ہمارے لئے مثال اور نمونہ کے طور پر پیش کئے گئے ہیں جنہوں نے اپنا ہر عہد نبھایا اور اللہ تعالیٰ کے انعاموں اور جنتوں کے وارث ٹھہرے۔ یہاں میں ان میں سے ایک گروہ جو انصار کہلاتے ہیں کا کچھ ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ نہیں آگئے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے اس طرح فیض نہیں پایا تھا جس طرح مکہ کے ابتدائی مسلمانوں نے فیض پایا اور ایمان میں ترقی کی۔ لیکن ہجرت کے وقت جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مواخات کا سلسلہ شروع کیا، ایک دوسرے کے بھائی بنائے تو انصار نے مہاجر بھائیوں کیلئے حقوق العباد کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرتے ہوئے اپنی جائیدادوں میں سے نصف حصہ ان کو دے دیا، اپنی آمدنیوں میں سے نصف حصہ ان کو دے دیا، ہر چیز بانٹ کر کھانے لگ گئے اور پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا اثر ہوا، قوتِ قدسیہ کا اثر ہوا تو اسلمْنَا سے آمنا کا ادراک پیدا ہوا۔ جنگ بدر میں انصاری سردار نے کیا خوبصورت جواب دیا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک سے مشورہ کر رہے تھے تو ہر دفعہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے تھے کہ کس طرح جنگ لڑی جائے تو مہاجرین ہمیشہ کھڑے ہو کر کہتے تھے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پھر یہی سوال دہراتے جاتے تھے کہ مشورہ دو۔ اس پر ایک انصاری سردار نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ حضور کا ارشاد یا اشارہ شاید ہماری طرف ہے، آپ نے فرمایا ہاں۔ تو انصاری سردار نے عرض کی کہ پھر ہمارا جواب یہ ہے کہ آپ سے پہلا معاہدہ آپ کے مدینہ تشریف لانے سے