سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 243
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 223 طرف بھی ہماری توجہ ہو اور اخلاق کے اعلیٰ معیار بھی ہم قائم کر رہے ہوں، حقوق العباد کی ادائیگی بھی ہمارا مطمح نظر ہو اور اپنے اپنے دائرے میں اعلیٰ اخلاق کو پھیلانے اور حقوق العباد ادا کرنے کی طرف ہماری بھر پور کوشش ہو اور ان سب امور میں جن میں اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی شامل ہیں اور حقوق العباد بھی شامل ہیں ہمارے سے غفلت نہ ہو ، کبھی ہم سستی دکھانے والے نہ ہوں۔ آنحضور کے دور میں کُونُوا انْصَارُ الله کی پکار اور صحابہ کا نمونہ جب یہ خصوصیات ہم میں پیدا ہو جائیں گی تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے عہد کو نبھاتے ہوئے ان لوگوں کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کہلاتے ہیں اور جنہوں نے اپنی روشن اور چمکدار مثالیں اس عہد کے نبھانے کیلئے قائم کی ہیں۔ یہ دو طرح کے لوگ تھے ایک گروہ مہاجر کہلایا اور ایک گروہ انصار کہلاتا ہے۔ جہاں تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی طرح انصار بننے کا سوال ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو اللہ تعالیٰ کا حکم ملا کہ كُونُوا اَنْصَارُ اللهِ کہ تم اللہ تعالیٰ کے دین کے مدد گار بن جاؤ، تو کیا مہاجرین اور کیا انصار سب ہی اس اعزاز کو پانے کی دوڑ میں شامل ہو گئے اور وہ کارہائے نمایاں دکھائے، ایسے ایسے کام کئے کہ ان کو دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ جو ہم غیر معمولی قربانیوں کے معیار اور اپنی حالتوں کو یکسر بدلنے کے نظارے صحابہ میں دیکھتے ہیں یہ اللہ اور اس کے رسول سے غیر معمولی محبت کی وجہ سے تھا، جو محبت صحابہ کے ایمانوں کی ترقی نے پیدا کر دی تھی۔ ان کی عبادتوں کے معیار بھی ایسے تھے کہ جس کا کوئی مقابلہ نہیں، ان کے دین کی خاطر جان، مال، وقت کی قربانی کے معیار بھی ایسے تھے کہ جن کا کوئی مقابلہ نہیں، ان کی آپس کی محبت اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے کے معیار بھی ایسے تھے کہ حیرت ہوتی ہے اور یہ لوگ ایسے تھے جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : وَالسَّبِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُعْجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ