سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 241
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 221 ہم مکمل ایمان لائے اور اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔ پھر اس دعویٰ کی ایک صورت اس زمانے میں پیدا ہوئی جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس زمانہ کے امام کو مان کر ہم اسکی جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔ اسکی باتوں پر مکمل عمل کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ پھر جب حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کی طرح اس طرف بلایا گیا کہ دین کی اشاعت اور اسکی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کیلئے میرے مدد گار بن جاؤ اور یہ کام تم اس وقت تک نہیں کر سکتے جب تک تمہارا ایمان مضبوط نہ ہو تو صرف اتنا کہہ کر کہ ہم نے زمانہ کے امام کو مان لیا ہے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی اگر بات ہو رہی ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے صرف اتنا نہیں کہا تھا کہ ہم آپ پر ایمان لے آئے بلکہ قربانیوں کے اعلیٰ معیار بھی قائم کئے اور اس زمانہ میں بھی یہ نہیں ہو گا کہ صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہم نے امام کو مان لیا ہے تو ایمان حاصل ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مثال دے کر بتا دیا ہے کہ اعراب کہتے ہیں، دیہاتوں کے رہنے والے کہتے ہیں کہ آمنا ہم ایمان لے آئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو بتا دے کہ یہ ابھی تمہارا دعویٰ ہے کہ تم ایمان لے آئے، تم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ استمنا کہ ہم نے فرمانبرداری قبول کر لی ہے۔ پس یہ اسلمنا کی حالت آمنا میں تب داخل ہو گی جب اپنا کچھ بھی نہیں ہو گا اور سب کچھ خدا تعالیٰ کی خاطر ہو گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔ جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو خدا کیلئے اختیار کرتے اور اسکی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمال فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تئیں دور تر لے جاتے ہیں۔ “ تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ 103، تفسیر مسیح موعود جلد 226-225 چہارم صفحہ