سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 240 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 240

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 220 صحابہ کی فدائیت کے نمونے انصار اللہ نے دکھلانے ہیں انصار اللہ کا ایک بڑا کام خلافت کی حفاظت اور بیوی بچوں میں اس کی اطاعت کی روح پیدا کرنا ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد قرآن مجید کے تین مختلف مقامات سے آیات قرآنیہ کی تلاوت کی جن میں انصار کا ذکر ہے اور فرمایا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ انصار کو مخاطب کرتے ہوئے اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی یا یہ وضاحت کی تھی کہ قرآن کریم میں انصار کا لفظ ماننے و ماننے والوں کیلئے دو جگہ استعمال ہوا ہے۔ ایک دفعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے متعلق اور ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے متعلق یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ ایک بڑا اہم نکتہ ہے۔ اگر انصار اس پر غور کریں تو مجلس انصار اللہ جماعت کا ایک انتہائی فعال حصہ بن سکتی ہے۔ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اگر جائزہ لیں کہ ہم کس حد تک اس پر عمل کر رہے ہیں تو آپ کو خود ہی احساس ہو گا کہ ابھی بہت بڑا وسیع میدان خالی پڑا ہے۔ حضرت عیسی کے تعلق میں انصار کا ذکر قرآن کریم میں جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تعلق میں انصار کا ذکر آتا ہے وہاں ایک جگہ تو خود حضرت عیسی قوم کے آپ کی تعلیم پر انکار اور عبادتوں کی طرف توجہ پر انکار کا سن کر بڑے درد سے اعلان کرتے ہیں کہ اکثریت تو ان حکموں پر عمل کرنے اور میری بات سننے سے انکاری ہے کیا تم میں سے کوئی خوش قسمت ہے جو اللہ کا پیغام پہنچانے اور اسکے حکموں پر عمل کرنے میں میرا معاون و مدد گار بن جائے۔ اس پر حواریوں نے کہا کہ نَحْنُ أَنصَارُ اللهِ ۔ ہم اللہ کے دین کے مدد گار ہیں اور ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر مکمل ایمان لاتے ہوئے اطاعت اور فرمابرداری میں صف اول میں شمار ہوتے ہیں۔ پھر دوسری جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ