سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 238 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 238

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول غلط ام 218 ذیلی تنظیموں کو نوجوانوں کو سنبھالنا چاہیے اور ہنر سکھلا کر بیکاری کا خاتمہ کرنا چاہیے ایک مطالبہ نوجوانوں کا بیکاری کی عادت ختم کرنے کا تھا۔ یہ بھی بڑی خطرناک بیماری ہے اور بڑھتی جا رہی ہے۔ پاکستان میں بعض بے کار نوجوان اس لئے بے کار ہیں کہ یا تو ان کے جو رشتہ دار ، والدین، بھائی وغیرہ باہر ہیں وہ باہر سے رقم بھیج دیتے ہیں اس لئے ذمہ داری کا احساس نہیں۔ یا اس امید پر بیٹھے ہیں کہ باہر جانا ہے۔ اب باہر جانا بھی اتنا آسان نہیں رہا، ان لوگوں کو بھی امیدوں پر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اور جو آتے ہیں ان کے بھی یہاں اتنی آسانی سے کیس پاس نہیں ہوتے۔ اس لئے بلاوجہ وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے اور دھوکے میں نہ رہیں۔ اپنے نفس کو دھو کہ نہ دیں اور اپنے آپ کو سنبھالیں۔ جماعت اور ذیلی تنظیموں کو بھی اس بارے میں معین پروگرام بنانا چاہیے اور نوجوانوں کو سنبھالنا چاہیے۔ یہ لوگ جو فارغ بیٹھے ہیں، فارغ بیٹھے یہ مطالبے کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمارا کسی طرح باہر جانے کا انتظام ہو جائے، بعض لڑکوں کے ماں باپ لکھ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے حالات خراب ہیں باہر بلوا لیں۔ باہر بلوانا کون سا آسان ہے۔ یا ہماری شادی باہر کروا دیں یا جو بھی ذریعہ ہو۔ اور ایسے لوگوں میں سے جب کسی کی شادی یہاں ہو جاتی ہے اور یہاں آجاتے ہیں تو جب ان ملکوں میں ان کا اسٹے (stay) پکا ہو جاتا ہے تو پھر بیویوں پر ظلم کرنے شروع کر دیتے ہیں یا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ بھی ایک غلط رو خاص طور پر پاکستان میں اور ہندوستان میں چل پڑی ہے۔ ایسے نوجوانوں کو میں کہتا ہوں کہ اپنے ملک میں محنت کی عادت ڈالیں اور محنت کر کے کھائیں۔ اس دوران میں اگر باہر کا کوئی انتظام ہو جاتا ہے تو ٹھیک ہے لیکن صرف اس لئے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے بیٹھے رہنا کہ باہر جانا ہے، اس سے بہت ساری غلط قسم کی عادتیں پیدا ہو جاتی ہیں اور بہت ساری برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور پھر وہ برائیاں معاشرے میں ، اس ماحول میں پھیلنی شروع ہو جاتی ہیں۔