سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 227

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 207 پس سب سے اول آپ کی عملی حالت کی درستی ہے۔ آپ کے نیک نمونہ کو دیکھ کر آپ کے بچے بھی نیکیوں میں آگے بڑھیں گے۔ تربیت کے لئے ایک اور اہم ذریعہ نماز با جماعت کی ادائیگی ہے جس کی طرف بچپن سے ہی توجہ دلانی چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سات سال کی عمر سے بچوں کو نماز کی تلقین کی جائے اور دس سال کی عمر میں انہیں سختی سے نماز کا پابند بنایا جائے لیکن یہ اس وقت ہو نہیں سکتا جب تک آپ خود پنجوقتہ نمازوں کی ادائیگی کے پابند نہیں ہو جاتے۔ اس لئے پانچوں وقت کی نماز مسجد جا کر با جماعت ادا کرنے کی کوشش کیا کریں اور اگر بامر مجبوری مسجد نہ جا سکتے ہوں تو گھر میں اس کا اہتمام کیا کریں۔ اگر آپ خود نمازوں کے پابند ہوں گے تو آپ کے بچے بھی نمازوں کے عادی ہو جائیں گے اور آہستہ آہستہ ان کو نمازوں میں لذت بھی آنے لگے گی اور وہ معاشرے کی برائیوں سے بھی محفوظ رہیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنکبوت : 46) نماز برائیوں اور ناپسندیدہ باتوں سے روکنے کا موجب ہے پس اگر آپ اپنی اولادوں کی تربیت کرنا چاہتے ہیں اور انہیں مغربی معاشرہ کی برائیوں سے بچانا چاہتے ہیں تو نمازوں پر مداومت اختیار کریں۔ اولاد کی تربیت کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کو قرآن کریم سکھایا جائے اور قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کے بعد اس کا ترجمہ بھی سکھانے کا انتظام کیا جائے تا کہ ان کو اسلامی تعلیمات کا علم ہو۔ پھر ان کو قرآن کریم کی باقاعدہ تلاوت کی عادت ڈالیں۔ ہر گھر میں روزانہ تلاوت قرآن کریم ہونی چاہیے اس سے آپ کے گھر برکتوں سے بھر جائیں گے ۔ الْخَيْرُ كُلُّهُ فِي الْقُرْآنِ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن کریم میں ہیں۔ بس آپ خود بھی قرآن کریم سیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی سکھائیں۔ یہ وہ امور ہیں جن کی طرف میں پہلے بھی بار بار توجہ دلا چکا ہوں لیکن ”ذکر“ کے تحت دوبارہ آپ کی اُن کی طرف توجہ مبذول کروارہا ہوں کیونکہ یہی وہ امور ہیں جو آپ کی اور آپ کی اولادوں کی روحانی حفاظت کی ضمانت ہیں۔ یہ وہ قلعے ہیں جن کے اندر رہ کر شیطان کے حملوں سے بیچ سکتے ہو۔ پھر ایک اہم چیز جو اپنے بچوں میں بچپن سے پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہ سچائی ا