سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 191

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 171 کرتے ہوئے جماعت کی اس نہج پر تربیت کریں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلاة والسلام چاہتے ہیں۔ ذیلی تنظیمیں اپنی اپنی مجالس میں اس طریق پر اپنی متعلقہ تنظیموں کے ممبران کی تربیت کریں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش ہے۔ اور جب اطفال اور ناصرات کے لیول سے یہ تربیتی اُٹھان ہو رہی ہو گی تو بہت سے معاشرتی اور اخلاقی مسائل جو اس معاشرے میں پیدا ہو رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دور ہو رہے ہوں گے۔ ہمارے بچے معاشرے کے غلط اثرات سے بچ رہے ہوں گے۔ اس وجہ سے گھروں کا امن اور سکون پہلے سے بڑھ کر قائم ہو رہا ہو گا۔ پس اس اطاعت کے معیار کو بڑھانے کے لئے ہر سطح پر کوشش کریں، ہر سطح پر ، ہر عہدیدار اپنے سے بالا عہدیدار کی اطاعت کرے۔ احباب جماعت اپنے عہدیداران کی اطاعت کریں اور سب مل کر خلافت سے سچے تعلق اور اطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھائیں ۔۔۔ جیسا کہ میں نے جو آیت تلاوت کی تھی اس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اطاعت کرنے والوں کا ہی انجام اچھا ہے۔ بہت سے لوگ لکھتے ہیں کہ دعا کریں کہ انجام بخیر ہو، تو انجام بخیر کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک بہت اہم راستہ ہمیں دکھا دیا ہے کہ اللہ اور رسول اور اُولُو الامر کی اطاعت کرو اور اپنے اوپر یہ لازم کر لو تو اللہ تم پر رحم فرماتے ہوئے پھر تمہارا انجام بخیر کرے گا۔ اس بارہ میں کہ کس حد تک ہمیں اطاعت کرنی چاہیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے امیر کی اطاعت، میری اطاعت ہے اور میری اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور میرے امیر کی نافرمانی میری نافرمانی ہے اور میری نافرمانی خدا تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ تو اس حد تک اطاعت کا حکم ہے۔ اس کو ہر احمدی کو ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنا چاہیے کیونکہ یہی ہماری بنیاد ہے، یہی ہماری اساس ہے اور اس کے بغیر جماعت کا تصور ہی نہیں ہے۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اطِيعُوا اللهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (آل عمران: 133) کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم رحم کئے جاؤ۔ تو اللہ تعالیٰ کا یہ رحم حاصل کرنے کے لئے اس کی اور اس کے رسول کی اطاعت کرنی ہو گی۔ وہ اطاعت جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا