سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 190 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 190

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 170 یہی ایک راز ہے ، یہی اصل بات ہے اور یہی جڑ ہے کہ : ”اللہ تعالیٰ توحید کو پسند فرماتا ہے اور یہ وحدت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اطاعت نہ کی جاوے۔“ (الحکم جلد 5 نمبر 5 مؤرخہ 10 فروری )1901ء پس یہ اطاعت کے معیار ہیں جو ایک احمدی کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اسی سے توحید کا قیام ہونا ہے۔ پس اس کے لئے ہر احمدی کو، ہر مرد کو، ہر عہدیدار کو، ہر ممبر جماعت کو ، ہر مربی اور مبلغ کو کوشش کرنی چاہیے تا کہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے قیام کا جو کام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر د فرمایا ہے اس کو ہم آگے سے آگے لے جاسکیں۔ انشاء اللہ ۔ اپنے نفس کی خواہشات کو ، اناؤں کو ذبح کرو پس جیسا کہ میں نے کہا سب سے پہلے اس کے لئے عہدیدار یا کوئی بھی شخص، جس کے سپر د کوئی بھی خدمت کی گئی ہے اپنا جائزہ لے اور اطاعت کے نمونے قائم کرے کیونکہ جب تک کام کرنے والوں میں اطاعت کے اعلیٰ معیار پیدا کرنے کی روح پیدا نہیں ہو گی ، افراد جماعت میں وہ روح پیدا نہیں ہو سکتی۔ پس ہر لیول پر جو عہدیدار ہیں چاہے وہ مقامی عاملہ کے ممبر یا صدر جماعت ہیں، ریجنل امیر ہیں یا مرکزی عاملہ کے ممبر یا امیر جماعت ہیں اپنی سوچ کو اس سطح پر لائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مقرر فرمائی ہے کہ اپنی، اپنے نفس کی خواہشات کو، اناؤں کو ذبح کرو۔ اور جب یہ مقام حاصل ہو گا تو پھر دل اللہ تعالیٰ کے نور سے بھر جائے گا اور روح کو حقیقی خوشی اور لذت حاصل ہو گی ایسا مومن جو کام بھی کرے گا وہ یہ سوچ کر کرے گا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کر رہا ہے اور یہی ایک مومن کا مقصد ہونا چاہیے۔ خلافت سے سچے تعلق اور اطاعت کا اعلیٰ نمونہ دکھائیں پس جہاں جماعتی عہدیداران یہ روح اپنے قول و فعل سے جماعت میں پیدا کرنے کی کوشش کریں وہاں مربیان اور مبلغین کا بھی کام ہے کہ اپنے قول و فعل کے اعلیٰ نمونے قائم