سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 188 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 188

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 168 مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں ایک لذت اور روشنی آتی ہے۔ مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔ مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے۔ اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔“ اپنی جو نفسانی خواہشات، انائیں، جھوٹی عزتیں ہیں ان کو اطاعت کے لئے ذبح کرنا پڑتا ہے۔ ہر سطح پر ہر احمدی کو ایک عام احمدی سے لے کر ( عام تو نہیں بلکہ ہر احمد ی خاص ہے کیونکہ اس نے زمانے کے امام کو مانا ہے، عام سے میری مراد یہ ہے کہ ایک احمدی جو عہدیدار نہیں ہے، اس سے لے کر بڑی سے بڑی سطح کے عہدیدار تک، ہر ایک کو اپنی نفس کی خواہشات کو کچلنا ہو گا۔ اور وہ اسی وقت پتہ لگتا ہے جب اپنے خلاف کوئی بات ہو ۔ جہاں تک دوسروں کے معاملات آتے ہیں، ہر ایک بڑھ بڑھ کر اپنی سچائی ظاہر کرنے کے لئے گواہیاں دے رہا ہو تا ہے۔ لیکن جہاں اپنا معاملہ آجائے یا اپنے بچوں کا معاملہ آجائے وہاں جھوٹ کو بنیاد بنالیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ: ” اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کر دینا ضروری ہوتا ہے۔ بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی۔ اگر یہ نفس کو ذبح نہیں کرتے تو اس کے بغیر اطاعت ہی نہیں کرتے۔ اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحد وں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے “۔ بڑے بڑے جو دعویٰ کرنے والے ہیں کہ ہم عبادت کرنے والے ہیں اور ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہیں اور اللہ کو ایک جاننے والے ہیں اور اس کا تقویٰ ہمارے دل میں ہے، خوف ہے۔ جب اپنے معاملے آتے ہیں جیسا کہ میں نے کہا تو پھر یہ سب چیزیں نکل جاتی ہیں۔ پھر نفس بت بن کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔ پس دیکھیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے کہ اپنے نفس کی انا کو دبانا بہت مشکل ہے۔ پس اگر اللہ کی رضا حاصل کرنی ہے تو صرف زبانی نعروں سے یہ رضا حاصل نہیں ہو گی