سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 187
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 167 جسم کے ہر عضو نے گواہی دینی ہے اور اس دن کسی کا کوئی عضو بھی اس کے اپنے کنٹرول میں نہیں ہو گا اس کی اپنی بات نہیں مانے گا بلکہ وہی کہے گا جو حق ہے، حقیقت ہے اور سچ ہے۔ پس اگر آخرت پر یقین ہے اور بہتر انجام چاہتے ہو ، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ اور رسول کی اطاعت کے ساتھ اولوالامر کے ہر حکم کو بھی مانو۔ اس کی کسی بات کو تخفیف کی نظر سے نہ دیکھو۔ کیسے ہی حالات ہوں اطاعت کا دامن کبھی نہ چھوڑو۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے اس سے دنیاوی حاکم بھی مراد ہیں۔ ان کی اطاعت کرنا بھی فرض ہے اور سوائے اس کے کہ وہ کوئی غیر شرعی حکم دیں تم نے اطاعت کرنی ہے۔ تو یہ عمومی حکم ہر ایک کے لئے ہے۔ عہدیداروں کے لئے بھی ہے اور عام احمدی کے لئے بھی ہے۔ بلکہ اللہ اور رسول کی طرف لوٹنے کا حکم اس لئے ہے کہ اگر کوئی دنیاوی حاکم کوئی ایسا حکم دے جو غیر شرعی ہو تو اللہ اور رسول سے رہنمائی لو ، قرآن اور سنت سے رہنمائی لو۔ جماعتی نظام میں تو تمہیں یہ حکم نہیں ملنا جو خلاف شریعت ہو۔ نہ خلیفہ وقت کی طرف سے شریعت کے خلاف کوئی حکم دیا جائے گا۔ دنیاوی حاکموں کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : اگر حاکم ظالم ہو تو اس کو برا نہ کہتے پھر و، بلکہ اپنی حالت میں اصلاح کرو۔ خدا اس کو بدل دے گا یا اسی کو نیک کر دے گا۔ جو تکلیف آتی ہے وہ اپنی ہی بد عملیوں کے سبب آتی ہے۔ ورنہ مومن کے ساتھ خدا کا ستارہ ہوتا ہے۔ مومن کے لئے خدا تعالیٰ آپ سامان مہیا کر دیتا ہے۔ میری نصیحت یہی ہے کہ ہر طرح سے تم نیکی کا نمونہ بنو۔ خدا کے حقوق بھی تلف نہ کرو اور بندوں کے حقوق بھی تلف نہ کرو۔“ (الحکم جلد 5 نمبر 19 مؤرخہ 24 مئی 1901ء صفحہ 9) تو ہر احمدی کو یہ سوچنا چاہیے کہ حکم عمومی طور پر ہر ایک کے لئے ہے۔ اس نے تو بہر حال اپنے نظام اور جو بھی عہدیدار ہے اس کی اطاعت کرنی ہے کیونکہ وہ خلیفہ وقت کا قائم کردہ نظام ہے۔ لیکن عہدیداروں کو بھی یہ سوچنا چاہیے کہ انہوں نے اگر اطاعت کے معیار بڑھانے ہیں تو خود بھی اطاعت کے اعلیٰ نمونے قائم کریں۔