سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 168 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 168

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 148 وصیت کے نظام میں انصار کو شامل کرنے کیلئے خاص کوشش ہونی ہے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے قائد عمومی سے مجالس کی تعداد دریافت فرمائی اور مجلس اور جماعت کا فرق سمجھایا۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جائزہ لیا کہ کتنی مجالس با قاعدہ رپورٹس بھجواتی ہیں اور کتنی ہیں جو بے قاعدہ ہیں یا نہیں بھجواتیں ۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی کہ جو مجالس با قاعدہ ہر ماہ اپنی رپورٹس نہیں بھجواتیں ان کو صرف میٹنگ میں توجہ دلانا کافی نہیں بلکہ خطوط لکھیں اور بار بار یاد دہانی کروائیں۔ پھر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا جائزہ لیا کہ جب آپ کو ( قائد عمومی کو) رپورٹس موصول ہوتی ہیں تو کیا کرتے ہیں۔ صدر صاحب کیا کرتے ہیں اور قائدین اپنے اپنے شعبوں کے بارہ میں کیا کرتے ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے قائد عمومی کو ہدایت فرمائی کہ آپ رپورٹس صدر صاحب کو دیا کریں۔ وہ اپنے ریمارکس دیں جو اُن مجالس کو بھجوایا کریں۔ قائدین کو کہیں کہ وہ آفس آئیں اور اپنے اپنے شعبوں کی رپورٹس دیکھیں اور اپنے اپنے شعبہ پر ریمارکس دیں جو مجالس کے متعلقہ سیکر ٹریان کو بھجوائے جائیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے قائد عمومی کو توجہ دلائی کہ آپ نے ہر مجلس کو اُس کی رپورٹ کی رسیدگی سے مطلع کرنا ہے کہ فلاں مہینہ کی رپورٹ مل گئی ہے۔ اس طرح مجالس زیادہ مستعد اور فعال ہوں گی۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: صدر مجلس کو حق ہے کہ جو زعیم صحیح طرح کام نہیں کر رہا اس کو تبدیل کر دیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی کہ مجھے ہر ماہ با قاعدگی سے آپ کی رپورٹ آنی چاہیے۔ نائب صدر صف دوم سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دریافت فرمایا کہ آپ نے صف دوم کے انصار کے لئے کیا پروگرام بنایا ہے؟ پھر فرمایا: ان کے لئے علیحدہ پروگرام بنائیں۔