سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 165 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 165

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 145 اللہ تعالیٰ کا گھر بنانے کی خاطر مالی قربانی کی عادت ڈالیں اس زمانے میں جس میں مادیت کا دور دورہ ہے احمدی ہی ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہوئے اس کے گھر بھی تعمیر کرتا ہے اور اس کی عبادت سے اپنے آپ کو سجانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ اپنی نسلوں میں بھی ان کی اعلیٰ تربیت کے ذریعہ یہ روح پھونکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس ضمن میں مجھے یاد آیا کہ ہمارے بچپن میں تحریک جدید میں ایک مڈ مساجد بیرون کی بھی ہوا کرتی تھی۔ ہر سال جب بچے پاس ہوتے تھے تو عموماً اس خوشی کے موقع پر بچوں کو بڑوں کی طرف سے کوئی رقم ملتی تھی۔ وہ اس میں سے اس مد میں ضرور چندہ دیتے تھے یا اپنے جیب خرچ سے دیتے تھے۔ یہ مداب بھی شاید ہو۔ حالات کی وجہ سے پاکستان میں تو میں اس پر زور نہیں دیتا لیکن باہر پتہ نہیں، ہے کہ نہیں اور اسے اب بیرون کہنے کی تو ضرورت بھی نہیں۔ عموماً مساجد کی ایک مڈ ہونی چاہیے اس میں جب بچے پاس ہو جائیں تو اس وقت یا کسی اور خوشی کے موقع پر اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر میں چندہ دیا کریں اور اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے کونے کونے میں بے شمار احمد ی بچے امتحانوں میں پاس ہوتے ہیں۔ اگر ہر سال ذیلی تنظیمیں اس طرف توجہ دیں، ان کو کہیں اور جماعتی نظام بھی کہے کہ اس موقع پر وہ اس مد میں اپنے پاس ہونے کی خوشی میں چندہ دیا کریں تو جہاں وہ اللہ تعالیٰ کا گھر بنانے کی خاطر مالی قربانی کی عادت ڈال رہے ہوں گے وہاں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کا فضل سمیٹتے ہوئے اپنا مستقبل بھی سنوار رہے ہوں گے۔ والدین بھی اس بارے میں اپنے بچوں کی تربیت کریں اور انہیں ترغیب دلائیں تو اللہ تعالیٰ ان والدین کو بھی خاص طور پر اس ماحول میں بہت سی فکروں سے آزاد فرمادے گا۔“ (خطبہ جمعہ فرمودہ 11 نومبر 2005ء بحوالہ خطبات مسرور جلد 3 صفحہ 665-666)