سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 153
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 133 اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے تمہارے جتنے بھی عہد ہیں ان کی دو حفاظت کرو ” یہ ایمان کی نرم ٹہنیاں بھی اس وقت مضبوط ہوں گی جب اپنے نفس پر کسی برائی کو غالب نہیں آنے دو گے۔ اور جب یہ چیز حاصل کر لوگے تو ایمان میں مزید مضبوطی پیدا ہو گی اور پھر اگلا قدم یہ ہے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے تمہارے جتنے بھی عہد ہیں ان کی حفاظت کرو۔ جتنی امانتیں ہیں ان کی حفاظت کرو۔ ہر احمدی کا بہت بڑا عہد اس زمانے کے امام کے ساتھ ہے ، ان کو مان کر ہے۔ جو عہد بیعت آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا ہوا ہے، ہر ایک اپنا جائزہ لے کہ کیا وہ ان دس شرائط بیعت کی پابندی کر رہا ہے؟ ہر احمدی خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کرتا ہے کہ اے خدا! میں تیری تعلیم کو بھلا بیٹھا تھا لیکن اب مسیح موعود کے ہاتھ پر عہد کرتا ہوں کہ میرے گزشتہ گناہوں کو معاف فرما آئندہ انشاء اللہ میں اس عہد پر قائم رہوں گا۔ پھر عہدیداروں کے عہد ہیں۔ ان کے سپر د امانتیں ہیں۔ وہ جائزے لیں کہ کہاں تک وہ اپنے عہد اور اپنی امانتیں پوری طرح ادا کر رہے ہیں۔ ان کی حفاظت کر رہے ہیں۔ جائزہ لیں کہ اپنے کام ، اپنے فرائض کا حق ادانہ کر کے وہ کہیں گناہگار تو نہیں ہو رہے۔ وہ اپنے ایمانوں میں ترقی کرنے کی بجائے، ایمانی پودے کی حفاظت اور آبیاری کی بجائے اس کو سکھا تو نہیں رہے۔ کیونکہ ایمان کی مضبوطی کے لئے ہر پہلو پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے جائزہ لیں کہ کوئی پہلو ایسا تو نہیں رہ گیا جس سے میرا ایمان وہیں رک گیا ہو۔ مجھے تو حکم ہے کہ تم نے نیکیوں میں ترقی کرنی ہے۔ جہاں نیکیوں میں ترقی رکی وہاں ایمان کی ترقی بھی رُک جائے گی۔ غرض یہ عہد اور امانتیں اس قدر ہیں کہ جس کی انتہا نہیں ہے۔ ایک عہد سے دوسرا عہد سامنے آتا چلا جاتا ہے۔ اور ایک امانت کی ادائیگی کے بعد دوسری امانت کی ادائیگی کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے۔ چاہے وہ ایک عام احمدی کی طرف سے ہو ، عہدیداروں کی طرف سے ہو یا کسی ذمہ دار کی طرف سے ہو۔ اور یہیں پر