سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 146
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 126 مدد کے لئے کوشاں رہتا ہے۔ (ترمذی کتاب البر والصلة بأب في السترة على المسلم ) پس یہ آسانیاں پیدا کرنا بھی محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔ خاص طور پر ایک دوسرے کی پردہ پوشی کی طرف بہت توجہ دیں۔ لیکن یہاں ایک وضاحت بھی کر دوں۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ غلاظت کو معاشرے میں پلنے اور بڑھنے دیا جائے اور جو غلط حرکات ہو رہی ہوں ان سے اس طرح پردہ پوشی کی جائے کہ جو معاشرے پر برا اثر ڈال رہی ہو۔ اس کی اطلاع عہدیداران کو دینی ضروری ہے۔ مجھے بتائیں لیکن آپس میں ایک دوسرے سے باتیں کرنا یا کسی کے متعلق باتیں سن کے آگے پھیلانا یہ غلط طریق کار ہے۔ اس معاملے میں پردہ پوشی ہونی چاہیے۔ لیکن اصلاح کی خاطر بتانا بھی ضروری ہے۔ لیکن ہر جگہ بات کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ یہ برائیاں اگر کوئی کسی میں دیکھتا ہے تو ایک احمدی کو بے چین ہو جانا چاہیے ، اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ بے چینی سے اس کی غلطیوں کو لوگوں پہ ظاہر نہیں کرنا۔ بے چینی اصلاح کے لئے ہونی چاہیے اور وہیں بات کرنی چاہیے جہاں سے اصلاح کا امکان ہو۔ اگر خود اصلاح نہیں کر سکتے تو جس طرح میں نے کہا ہے پھر عہدیداروں کو بتائیں، مجھے بتائیں۔ اور پھر یہ عہدیدار رحم اور محبت کے جذبات کے ساتھ اس شخص کی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ ایک روایت میں آتا ہے حضرت عامر کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو مومنوں کو ان کے آپس کے رحم، محبت و شفقت کرنے میں ایک جسم کی طرح دیکھے گا۔ جب جسم کا ایک عضو بیمار ہوتا ہے۔ اس کا سارا جسم اس کے لئے بے خوابی اور بخار میں مبتلا رہتا ہے۔ (بخاری کتاب الأدب باب رحمة الناس والبهائم ) پس معاشرے کو تکلیف سے بچانے کے لئے ، اپنے آپ کو اس بیماری سے بچانے کے لئے ، پاک دل ہو کر اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے ، دعا کرنی چاہیے۔ یہ رویے اگر ہوں گے تو یقینا یہ ایسے رویے ہیں جو معاشرے کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے والے ہوں گے۔ پھر آپس کے تفرقہ کو دور کرنے کے لیے ، آپس میں محبت کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نہایت خوبصورت اصل ہمیں بتا دیا۔