سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 128
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 108 ماحول میں تربیت کریں، نمازوں کی عادت ڈالیں۔ مالی قربانی کا جذبہ ان کے دلوں میں پیدا کریں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت اقدس مسیح موعود اور نظام خلافت سے محبت اور اطاعت کا جذبہ ان میں اُجاگر کریں۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں گے۔ اپنی نسلوں کو دنیا کے عذاب سے بچانے والے ہوں گے ۔ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيكُمْ نَاراً (التحریم: 7) پر عمل کرنے والے ہوں گے۔ دو حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں: چاہیے کہ تم بھی ہمدردی اور اپنے نفسوں کے پاک کرنے سے روح القدس سے حصہ لو که بجز روح القدس کے حقیقی تقویٰ حاصل نہیں ہو سکتی اور نفسانی جذبات کو بگلی چھوڑ کر خدا کی رضا کے لئے وہ راہ اختیار کرو جو اس سے زیادہ کوئی راہ تنگ نہ ہو۔ دنیا کی لذتوں پر فریفتہ مت ہو کہ وہ خدا سے جدا کرتی ہیں اور خدا کے لئے تلخی کی زندگی اختیار کرو۔ وہ درد جس سے خدا راضی ہو اس لذت سے بہتر ہے جس سے خدا ناراض ہو جائے۔“ (رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 307) پس خدا تعالیٰ کو راضی کرنے کی راہیں تلاش کریں۔ اس کی ایک راہ اس زمانہ میں نظام وصیت میں شامل ہونا ہے اس کے لئے جلد قدم بڑھائیں۔ پھر اس نظام کا نظام خلافت کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود نے رسالہ ”الوصیت “ میں جن دو باتوں کا ذکر فرمایا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کی وفات کے بعد قدرتِ ثانیہ کا ظہور ہو گا یعنی نظام خلافت کا اجراء ہو گا جس کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا جب تک اپنے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں گے تو جماعت کے تقویٰ کا معیار بھی بڑھتا رہے گا اور پھر ان قربانی والے متقیوں کے ذریعہ انشاء اللہ خلافت حقہ اسلامیہ بھی ہمیشہ قائم رہے گی کیونکہ متقیوں کی جماعت کے ساتھ ہی خلافت کا وعدہ ہے۔