سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 126
سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 106 وصیت کا نظام اصلاح نفس کا زبر دست ذریعہ ہے پیارے صدر صاحب مجلس انصار اللہ ربوہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 66 یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ ماہنامہ ”انصار اللہ " وصیت کے حوالہ سے خصوصی اشاعت کا اہتمام کر رہا ہے۔ جزاکم اللہ احسن الجزاء۔ وصیت کے نظام کو قائم ہوئے خدا ہوئے خدا کے فضل سے سے سو سال پورے : رے ہو رہے ہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود نے اپنی وفات سے دو سال قبل اس نظام کو جاری فرمایا۔ یہ آپ کی آخری وصیت تھی جو آپ نے اپنے ماننے والوں کو فرمائی اور یہ خوشخبری دی کہ یہ نظام خدا تعالیٰ کا قرب پانے کا ایک ذریعہ ہے اور اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں خدا تعالیٰ سے خاص انعام ملے تو اس نظام میں شامل ہو جاؤ۔ آپ فرماتے ہیں: وو تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے۔ ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اسکی طرف دنیا کو توجہ نہیں۔ وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاہتے ہیں ان کے لئے موقعہ ہے کہ وہ اپنے جوہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پاویں۔“ (رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد نمبر 20 صفحہ 308-309 مطبوعہ لندن) پس وصیت کا نظام اصلاح نفس کا زبردست ذریعہ ہے۔ اس نظام کے قیام سے جنت قریب کر دی گئی ہے۔ اگر کوئی ایک وقت میں جنتی نہیں بھی تو وہ اس نظام میں شامل ہونے کی وجہ سے جنتی بنا دیا جائے گا۔ میں نے جلسہ سالانہ یو کے 2004ء کے اختتامی خطاب میں احباب جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ اس آسمانی نظام میں اپنی زندگیوں کو پاک کرنے کے لئے، اپنی نسلوں کی زندگیوں کو پاک کرنے کے لئے شامل ہوں اور ایک سال میں کم از کم پندرہ ہزار نئی وصایا ہو جائیں تا کہ اس سال کے آخر تک اس نظام میں کم از کم پچاس ہزار موصی بن جائیں اور نظام کے قیام پر سو سال ہو جانے پر کم از کم پچاس فیصد چندہ دہند موصی بن جائیں اور ایسے مومن نکلیں کہ کہا جائے کہ