سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 100 of 552

سبیل الرّشاد (جلد چہارم) حصہ اوّل — Page 100

سبیل الرشاد جلد چہارم حصہ اول 80 عہدیداران کی ذمہ داریاں اور فرائض حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آغاز میں تشہد و تعوذ، سورۃ فاتحہ اور سورۃ النساء کی یہ آیت تلاوت فرمائی: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى أَهْلِهَا ، وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ داِنَّ اللهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (النساء : 59) اور فرمایا: یہ اللہ تعالیٰ کا جماعت احمدیہ پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے بعد نظام خلافت جماعت میں جاری فرمایا اور اس نظام خلافت کے گرد جماعت کا محلہ کی سطح یا کسی چھوٹی سے چھوٹی اکائی سے لے کر شہری اور ملکی سطح تک کا نظام گھومتا ہے۔ یعنی کسی چھوٹی سے چھوٹی جماعت کے صدر سے لے کر ملکی امیر تک کا بلا واسطہ یا بالواسطہ خلیفہ وقت سے رابطہ ہوتا ہے۔ پھر ہر شخص انفرادی طور پر بھی رابطہ کر سکتا ہے۔ ہر فرد جماعت خلیفہ وقت سے رابطہ رکھتا ہے۔ لیکن اگر کسی جماعتی عہدیدار سے کوئی شکوہ ہو یا شکایت ہو اور خلیفہ وقت تک پہنچانی ہو تو ہر ایک کے انفرادی رابطے کے باوجود اس کو یہ شکایت امیر کے ذریعے ہی پہنچانی چاہیے اور امیر ملک کا کام ہے کہ چاہے اس کے خلاف ہی شکایت ہو وہ اسے آگے پہنچائے اور اگر کسی وضاحت کی ضرورت ہے تو وضاحت کر دے تاکہ مزید خط و کتابت میں وقت ضائع نہ ہو۔ لیکن شکایت کرنے والے کا بھی کام ہے کہ اپنی کسی ذاتی رنجش کی وجہ سے کسی عہدیدار کے خلاف شکایت کرتے ہوئے اسے جماعتی رنگ نہ دے۔ تقویٰ سے کام لینا چاہیے ۔ بعض دفعہ بعض کم علم یا جن میں دنیا کی مادیت نے اپنا اثر ڈالا ہوتا ہے ایسی باتیں کر جاتے ہیں جو جماعت کے وقار اور روایات کے خلاف ہوتی ہیں اس لئے ایسے کمزوروں یا کم علم رکھنے والوں کو سمجھانے کے لئے میں یہ بتا رہا ہوں کہ ایسی باتوں سے پر ہیز کرنا چاہیے۔