تحفۂ گولڑویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 615

تحفۂ گولڑویہ — Page 42

روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۲ ضمیمه تحفہ گولڑ و به ملزم اور شرمسار کر دیتا ہے اس لئے حافظ صاحب بھی اور منکروں کی طرح خدا کے الزام کے نیچے آگئے اور ایسا اتفاق ہوا کہ ایک مجلس میں جس کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں میری جماعت کے بعض لوگوں نے حافظ صاحب کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں ایک شمشیر شیر برہنہ کی طرح یہ حکم فرماتا ہے کہ یہ نبی اگر میرے پر جھوٹ بولتا بولتا اور اور کسی کسی بات بات با میں افترا کرتا تو میں اس کی رگِ جان کاٹ دیتا اور اس ۔ ا مدت دراز تک وہ زندہ نہ رہ سکتا۔ تو اب جب ہم اپنے اس مسیح موعود کو اس پیمانہ سے ناپتے ہیں تو براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دعوی منجانب اللہ ہونے اور مکالمات الہیہ کا قریباً تمیں برس سے ہے اور اکیس برس سے براہین احمد یہ شائع ہے۔ پھر اگر اس مدت تک اس مسیح کا ہلاکت سے امن میں رہنا اس کے صادق ہونے پر دلیل نہیں ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تئیس برس تک موت سے بچنا آپ کے سچا ہونے پر بھی دلیل نہیں ہے کیونکہ جبکہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ ایک جھوٹے مدعی رسالت کو تیس برس تک مہلت دی اور لَوْ تَقَوَّلَ علَيْنَا کے وعدہ کا کچھ خیال نہ کیا تو اسی طرح نعوذ باللہ یہ بھی قریب قیاس ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی باوجود کا ذب ہونے کے مہلت دے دی ہو مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کا ذب ہونا محال ہے۔ پس جو ستلزم محال ہو وہ بھی محال ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ قرآنی استدلال بدیہی الظہور جبھی ٹھہر سکتا ہے جبکہ یہ قاعدہ کلی مانا جائے کہ خدا اس مفتری کو جو خلقت کے گمراہ کرنے کے لئے مامور من اللہ ہونے کا دعوی کرتا ہو کبھی مہلت نہیں دیتا کیونکہ اس طرح پر اس کی بادشاہت میں گڑ بڑ پڑ جاتا ہے اور صادق اور کاذب میں تمیز اُٹھ جاتی ہے۔ غرض جب میرے دعوی کی تائید میں یہ دلیل پیش کی گئی تو حافظ صاحب نے اس دلیل سے سخت انکار کر کے اس بات پر زور دیا کہ کاذب کا تیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہنا جائز ہے اور کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسے کا ذبوں کی میں نظیر پیش کروں گا جو رسالت کا جھوٹا دعوی کر کے تیس برس تک یا اس سے زیادہ رہے ہوں مگر اب تک کوئی نظیر پیش نہیں کی الحاقة: ۴۵