تحفۂ گولڑویہ — Page 41
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۱ ضمیمه تحفہ گولڑ و به لا جواب رہ گیا ۔ اور آج حافظ محمد یوسف صاحب مسلمانوں کے فرزند کہلا کر اس قرآنی دلیل سے انکار کرتے ہیں ۔ اور یہ معاملہ صرف زبانی ہی نہیں رہا بلکہ ایک ایسی تحریر اس بارے میں ہمارے پاس موجود ہے جس پر حافظ صاحب کے دستخط ہیں جو انہوں نے محبی اخویم مفتی محمد صادق صاحب کو اس عہد اقرار کے ساتھ دی ہے کہ ہم ایسے مفتریوں کا ثبوت دیں گے جنہوں نے خدا کے مامور یا نبی یا رسول ہونے کا دعوی کیا اور پھر وہ اس دعوے کے بعد تیئیس برس سے زیادہ جیتے رہے۔ یادر ہے کہ یہ صاحب مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کے گروہ میں سے ہیں اور بڑے موحد مشہور ہیں اور ان لوگوں کے عقائد کا بطور نمونہ یہ حال ہے جو ہم نے لکھا اور یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ قرآن کے دلائل پیش کردہ کی تکذیب قرآن کی تکذیب ہے۔ اور اگر قرآن شریف کی ایک دلیل کورڈ کیا جائے تو امان اٹھ جائے گا اور اس سے لازم آئے گا کہ قرآن کے تمام دلائل جو توحید اور رسالت کے اثبات میں ہیں سب کے سب باطل اور بیچ ہوں اور آج تو حافظ صاحب نے اس رڈ کے لئے یہ بیڑہ اٹھایا کہ میں ثابت کرتا ہوں کہ لوگوں نے تیس برس تک یا اس سے زیادہ نبوت یا رسالت کے جھوٹے دعوے کئے اور پھر زندہ رہے اور کل شاید حافظ صاحب یہ بھی کہہ دیں کہ قرآن کی یہ دلیل بھی کہ لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةً إِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَا باطل ہے اور دعوی کریں کہ میں دکھلا سکتا ہوں کہ خدا کے سوا اور بھی چند خدا ہیں جو سچے ہیں مگر زمین و آسمان پھر بھی اب تک موجود ہیں ۔ پس ایسے بہادر حافظ صاحب سے سب کچھ امید ہے لیکن ایک ایماندار کے بدن پر لرزہ شروع ہو جاتا ہے جب کوئی یہ بات زبان پر لاوے کہ فلاں بات جو قرآن میں ہے وہ خلاف واقعہ ہے یا فلاں دلیل قرآن کی باطل ہے بلکہ جس امر میں قرآن اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر زد پڑتی ہوا ایمان دار کا کام نہیں کہ اس پلید پہلو کو اختیار کرے اور حافظ صاحب کی نوبت اس درجہ تک محض اس لئے پہنچ گئی کہ انہوں نے اپنے چند قدیم رفیقوں کی رفاقت کی وجہ سے میرے منجانب اللہ ہونے کے دعوے کا انکار مناسب سمجھا اور چونکہ دروغ گو کو خدا تعالیٰ اسی جہان میں الانبياء: ۲۳