توضیح مرام — Page 52
روحانی خزائن جلد ۳ ۵۲ توضیح مرام چاہیں گے پس مدعی ہو کر مقابل پر کھڑے ہو جانا اُن کے لیے سخت حجاب ہو جائے گا جس سے باہر نکلنا اور اپنی مشہور کردہ رائے سے رجوع کرنا ان کے لیے مشکل بلکہ محال ہوگا کیونکہ ہمیشہ یہی دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی مولوی ایک رائے کو علی رؤوس الا شہاد ظاہر کر دیتا ہے اور اپنا فیصلہ ناطق اُس کو قرار دیتا ہے تو پھر اس رائے سے عود کرنا اس کو موت سے بدتر دکھائی دیتا ہے۔ لہذا میں نے ترحما للہ یہ چاہا کہ قبل اس کے کہ وہ مقابل پر آکر ہٹ اور ضد کی بلا میں پھنس جائیں آپ ہی ان کو ایسے صاف اور مدلل طور پر سمجھا دیا جائے کہ جو ایک دانا اور منصف اور طالب حق کی تسلی کے لیے کافی ہواگر بعد میں پھر لکھنے کی ضرورت پڑے گی تو شائد ایسے لوگوں کے لئے وہ ضرورت پیش آوے کہ جو غائت درجہ کے سادہ لوح اور غبی ہیں جن کو آسمانی کتابوں کے استعارات مصطلحات و دقائق تاویلات کی کچھ بھی خبر بلکہ مس تک نہیں اور لا يَمَسُّہ کی نفی کے نیچے داخل ہیں ۔ اب پہلے ہم صفائی بیان کے لئے یہ لکھنا چاہتے ہیں کہ بائبل اور ہماری احادیث اور اخبار کی کتابوں کے رو سے جن نبیوں کا اسی وجود عنصری کے ساتھ آسمان پر جانا تصور کیا گیا ہے وہ دو نبی ہیں ایک یوحنا جس کا نام ایلیا اور ادریس بھی ہے۔ دوسرے مسیح بن مریم جن کو عیسی اور یسوع بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں نبیوں کی نسبت عہد قدیم اور جدید کے بعض صحیفے بیان کر رہے ہیں کہ وہ دونوں آسمان کی طرف اُٹھائے گئے اور پھر کسی زمانہ میں زمین پر اتریں گے اور تم ان کو آسمان سے آتے دیکھو گے ان ہی کتابوں سے کسی قدر ملتے جلتے الفاظ احادیث نبویہ میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن حضرت ادریس کی نسبت جو بائیل میں یوحنا یا ایکیا کے نام سے پکارے گئے ہیں انجیل میں یہ فیصلہ دیا گیا ہے کہ یحییٰ بن زکریا کے پیدا ہونے سے اُن کا آسمان سے اتر نا وقوع میں آگیا ہے چنانچہ حضرت مسیح صاف صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ یوحنا جو آنے والا تھا یہی ہے چاہو تو قبول کرو ۔ سو ایک نبی کے محکمہ سے ایک آسمان پر جانے والے اور پھر کسی وقت اُترنے والے یعنی یوحنا کا مقدمہ اہے الیاس پڑھا جائے۔ (شمس)