تحفۂ غزنویہ — Page 578
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۵۷۸ تحفه غزنویه دنیا سے گذر چکے ہیں یعنی مر چکے ہیں ۔ پس ایسا ہی اگر یہ بھی مرکز یا قتل ہو کر دنیا سے گزر گیا تو کیا تم دین سے پھر جاؤ گے تو اس آیت کے سننے کے بعد کسی ایک صحابی نے بھی مخالفت نہیں کی اور اُٹھ کر یہ عرض نہیں کی کہ یہ آپ کا استدلال ناقص اور نا تمام ہے ۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ بعض نبی زندہ بجسم عنصری زمین پر موجود ہیں جیسے الیاس و خضر اور بعض آسمان پر جیسے اور لیس اور عیسیٰ تو پھر اس آیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت موت کیونکر ثابت ہوا اور کیوں جائز نہیں کہ وہ بھی زندہ ہوں بلکہ تمام صحابہ نے اس آیت کو سن کر تصدیق کی اور سب کے سب اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ تمام نبیوں کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی مرنا ضروری تھا پس یہ اجماع بلا توقف اور تردد واقع ہوا لیکن وہ اجماع جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر مانا جاتا ہے اس میں بعض صحابہ کی طرف سے بیعت کرنے میں کچھ توقف اور ترددبھی ہوا تھا گو کچھ دنوں کے بعد بیعت کر لی اور اس ابتلا میں خود حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی مبتلا ہو گئے تھے لیکن گذشتہ انبیاء کی موت پر کسی صحابی کو بعد سننے صدیقی خطبہ کے کوئی ابتلا پیش نہیں آیا اور نہ ماننے میں کچھ بھی توقف اور تر ڈ دکیا بلکہ سنتے ہی مان گئے ۔ لہذا اسلام میں یہ وہ پہلا اجماع ہے جو بلا توقف انشراح صدر کے ساتھ ہوا ۔ خلاصہ کلام یہ کہ بے شک نصوص صریحہ کے رُو سے ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا تمام گذشتہ انبیاء علیہم السلام کی موت پر جس میں حضرت مسیح بھی داخل ہیں اجماع ہو گیا تھا بلکہ حضرت مسیح اس اجماع کا پہلا نشانہ تھے ۔ اب ذیل میں نصوص حدیثیہ کے رُو سے ثبوت لکھتا ہوں تا معلوم ہو کہ ہم دونوں میں سے کون شخص خدا تعالیٰ سے خوف کر کے سچ پر قائم ہے اور کون شخص دلیری سے جھوٹ بولتا