تحفۂ غزنویہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 769

تحفۂ غزنویہ — Page 198

روحانی خزائن جلد ۱۵ ۷ ۱۹۸ تریاق القلوب اور حلف نمونہ نمبر ۲ پر ہی ہوگی ۔ اور یہ نشان انہی ایام میں کتاب سرمہ چشم آریہ میں درج کیا گیا تھا۔ دیکھو میری کتاب سُرمہ چشم آریه صفحه ۱۰ - حاشیه مطبع اسلامیه پر لیس لاہور ۱۸۹۳ء ۔ میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضی مرحوم کی وفات کا جب وقت قریب آیا اور صرف چند پہر باقی رہ گئے تو خدا تعالیٰ نے ان کی وفات سے مجھے ان الفاظ عزا پرسی کے ساتھ خبر دی والسماء والطارق یعنی قسم ہے آسمان کی اور قسم ہے اُس حادثہ کی جو آفتاب کے غروب کے بعد ظہور میں آئے گا۔ اور چونکہ ان کی زندگی سے بہت سے وجوہ معاش ہمارے وابستہ تھے اس لئے بشریت کے تقاضا سے یہ خیال دل میں گذرا کہ ان کی وفات ہمارے لئے بہت سے مصائب کا موجب ہوگی ۔ کیونکہ وہ رقم کثیر آمدنی کی ضبط ہو جائے گی جو ان کی زندگی سے وابستہ تھی۔ اس خیال کے آنے کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔ الیس الله بکاف عبده یعنی کیا خدا اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔ تب وہ خیال یوں اُڑ گیا جیسا کہ روشنی کے نکلنے سے تاریکی اُڑ جاتی ہے اور اُسی دن غروب آفتاب کے بعد میرے والد صاحب فوت ہو گئے جیسا کہ الہام نے ظاہر کیا تھا اور جو الہام اليس الله بكاف عبدہ ہوا تھا وہ بہت سے لوگوں کو قبل از وقت سنایا گیا جن میں سے لالہ شرمیت مذکور اور لالہ ملا وامل مذکور کھتریان ساکنان قادیاں ہیں اور جو حلفاً بیان کر سکتے ہیں ۔ اور پھر مرزا صاحب مرحوم کی وفات کے بعد وہ عبارت الہام ایک نگین پر کھدوائی گئی ۔ اور اتفاقاً اسی ملا وامل کو جب وہ کسی اپنے کام کے لئے امرتسر جاتا جاتا تھا وہ عبارت دی گئی کہ تا وہ تین کھدوا کر اور مہر مہر بنوا کر لے آئے ۔ نگر چنانچہ وہ حکیم محمد شریف مرحوم امرتسری کی معرفت بنوا کر لے آیا جو اب تک میرے الكافية پاس موجود ہے جو اس جگہ لگائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ اس پیشگوئی میں ایک تو یہی امر ہے کہ جو پورا ہوا یعنی یہ کہ الہام کے ایما کے موافق