تحفۂ غزنویہ — Page 197
روحانی خزائن جلد ۱۵ ۱۹۷ تریاق القلوب اور اس کی ران میں سخت درد ہو رہا ہے اس کا کوئی علاج پوچھنے آئے ہیں۔ تب میں نے حامد علی کو کہہ دیا کہ گواہ رہ کہ یہ پیشگوئی دو تین منٹ میں ہی پوری ہوگئی ۔ شیخ حامد علی اپنے گاؤں میں زندہ موجود ہے اُس سے حلفاً ہر ایک طالب حق دریافت کر سکتا ہے۔ حلف وہی ہو گی جس کا نمونہ نمبر ۲ میں ہم بیان کر چکے ہیں۔ ایک میرے مخلص عبداللہ نام پٹواری غوث گڑہ علاقہ ریاست پٹیالہ کے دیکھتے ہوئے اور اُن کی نظر کے سامنے یہ نشان الہی ظاہر ہوا کہ اول مجھ کو کشفی طور پر دکھلایا گیا کہ میں نے بہت سے احکام قضا و قدر کے اہلِ دنیا کی نیکی بدی کے متعلق اور نیز اپنے لئے اور اپنے دوستوں کے لئے لکھے ہیں اور پھر تمثل کے طور پر میں نے خدا تعالیٰ کو دیکھا اور وہ کاغذ جناب باری کے آگے رکھ دیا کہ وہ اس پر دستخط کر دیں ۔ مطلب یہ تھا کہ یہ سب باتیں جن کے ہونے کے لئے میں نے ارادہ کیا ہے ہو جا ئیں ۔ سو خدا تعالیٰ نے سرخی کی سیاہی سے دستخط کر دیئے ۔ اور قلم کی نوک پر جو سرخی زیادہ تھی اس کو جھاڑا اور معاً جھاڑنے کے ساتھ ہی اُس سرخی کے قطرے میرے کپڑوں اور عبد اللہ کے کپڑوں پر پڑے۔ اور چونکہ کشفی حالت میں انسان بیداری سے حصہ رکھتا ہے ۔ اس لئے مجھے جبکہ ان قطروں سے جو خدا تعالی کے ہاتھ سے گرے اطلاع ہوئی ۔ ساتھ ہی میں نے بچشم خودان قطروں کو بھی دیکھا اور میں رقت دل کے ساتھ اس قصے کو میاں عبداللہ کے پاس بیان کر رہا تھا کہ اتنے میں اس نے بھی وہ تر بتر قطرے کپڑوں پر پڑے ہوئے دیکھ لئے اور کوئی ایسی چیز ہمارے پاس موجود نہ تھی جس سے اُس سرخی کے گرنے کا کوئی احتمال ہوتا۔ اور وہ وہی سرخی تھی جو خدا تعالیٰ نے اپنی قلم سے جھاڑی تھی ۔ اب تک بعض کپڑے میاں عبداللہ کے پاس موجود ہیں جن پر وہ بہت سی سرخی پڑی تھی ۔ اور میاں عبداللہ زندہ موجود ہیں اور اس کیفیت کو حلفاً بیان کر سکتے ہیں کہ کیونکر یہ خارق عادت اور اعجازی طور پر امر تھا۔