سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 335 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 335

روحانی خزائن جلد ۲ ۳۲۱ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم اشتہا ر ا نعامی پانسور و پیه سرمه چشم آریہ درباره کتاب لا جواب کحل الجواهر سرمه چشم آریہ جو آریوں کے وید اور اُن کے عقائد اور اصول کو باطل اور دور از صدق ثابت کرتی ہے سرمه چشم آریہ پر درو پرز گوہرست میں زیر جستجو ازیں ظاہرست ۱۳۰۳ھ یہ کتاب یعنی رساله سرمه چشم آریہ تقریب مباحثہ لالہ مرلیدھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر ہوشیار پور جو عقائد باطلہ وید کی بکلی بیخ کنی کرتی ہے اس دعوئی اور یقین سے لکھی گئی ہے کہ کوئی آریہ اس کتاب کا رد نہیں کر سکتا کیونکہ سچ کے مقابل پر جھوٹ کی کچھ پیش نہیں جاتی اور اگر کوئی آریہ صاحب ان تمام وید کے اصولوں اور اعتقادوں کو جو اس کتاب میں رد کئے گئے ہیں سچ سمجھتا ہے اور اب بھی وید اور اس کے ایسے اصولوں کو ایشر کرت ہی خیال کرتا ہے تو اس کو اسی ایشر کی قسم ہے کہ اس کتاب کار دلکھ کر دکھلاوے اور پانسو روپیہ انعام پاوے۔ یہ پانسور و پیہ بعد تصدیق کسی ثالث کے جو کوئی پادری یا بر ہمو صاحب ہوں گے دیا جائے گا اور ہمیں یاں تک منظور ہے کہ اگر منشی جیوند اس صاحب سیکرٹری آریہ سماج لاہور جو اس گردونواح کے آریہ صاحبوں کی نسبت سلیم الطبع اور معزز اور شریف آدمی ہیں بعد ر د چھپ جانے اور عام طور پر شائع ہو جانے کے مجمع عام علماء مسلمانوں اور آریوں اور معز ز عیسائیوں وغیرہ میں معہ اپنے عزیز فرزندوں کے حاضر ہوں اور پھر اٹھ کر قسم کھالیں کہ ہاں میرے دل نے بہ یقین کامل قبول کر لیا ہے کہ سب اعتراضات رسالہ سرمہ چشم آریہ جن کو میں نے اوّل سے آخر تک بغور دیکھ لیا ہے۔ حاشیہ یہ شعر نتائج طبع مولوی محمد یوسف صاحب سنوری سے ہے جزا هم الله خيرًا۔ منه