سُرمہ چشم آریہ — Page 330
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۱۸ سرمه چشم آریه زانیوں اس عاجز کو نسبت دی ہے اور ایک جگہ پر جہاں اس کوئی بھی ایسی پیشگوئی درج نہیں جس میں ایک ذرہ عاجز نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں یہ پیشگوئی غلطی کی بھی گرفت ہو سکے بلکہ وہ سب سچی ہیں اور خدائے تعالیٰ کی طرف سے بیان کی تھی کہ اس نے عنقریب اپنے وقت پر ظہور پکڑ کر مخالفین کی ذلت اور مجھے بشارت دی ہے کہ بعض بابرکت عورتیں اس رسوائی کا موجب ہوں گی ۔ دیکھو ہم نے ۲۰ فروری اشتہار کے بعد بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان ۱۸۸۶ء میں جو یہ پیشگوئی اجمالی طور پر لکھی تھی کہ ایک سے اولاد پیدا ہو گی اس پیشگوئی پرمنشی صاحب فرماتے امیر نو وارد پنجابی الاصل کو کچھ ابتلا در پیش ہے کیسی وہ ہیں کہ الہام کئی قسم کا ا ہوتا ہے نیکوں کو نیک باتوں کا اور کچی نکلی۔ ہم نے صد باہندوؤں نکلی۔ ہم نے صدہا ہندوؤں اور مسلمانوں کو مختلف کو عورتوں کا۔ ہم اس جگہ کچھ لکھنا نہیں چاہتے شہروں میں بتلا دیا تھا کہ اس شخص پنجابی الاصل سے ناظرین منشی صاحب کی تہذیب کا آپ اندازہ مراد دلیپ سنگھ ہے جس کی پنجاب میں آنے کی خبر کرلیں۔ پھر ایک اور صاحب ملازم و ملازم دفتر ایگریمر مشہور ہورہی ہے لیکن اس ارادہ سکونت پنجاب میں صاحب ریلوے لاہور کے جو اپنا نام نبی بخش ظاہر وہ ناکام رہے گا بلکہ اس سفر میں اس کی عزت و کرتے ہیں اپنے خط مرسلہ ۱۳ جون ۱۸۸۶ء میں اس آسائش یا جان کا خطرہ ہے اور یہ پیشگوئی ایسے وقت عاجز کو لکھتے ہیں کہ تمہاری پیشگوئی جھوٹی نکلی اور دختر میں لکھی گئی اور عام طور پر بتلائی گئی تھی یعنی ۲۰ ر فروری پیدا ہوئی اور تم حقیقت میں بڑے فریبی اور مکار اور ۱۸۸۶ء کو جبکہ اس ابتلا کا کوئی اثر و نشان ظاہر نہ تھا۔ دروغگو آدمی ہو۔ ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا بالآخر اس کو مطابق اسی پیشگوئی کے بہت حرج اور کہہ سکتے ہیں کہ اے خدائے قادر مطلق یہ لوگ تکلیف اور سبکی اور خجالت اٹھانی پڑی اور اپنے مدعا اندھے ہیں۔ ان کو آنکھیں بخش یہ نادان ہیں ان کو سے محروم رہا سو دیکھو اس پیشگوئی کی صداقت کیسی سمجھ عطا کر یہ شرارتوں سے بھرے ہوئے ہیں ان کو کھل گئی اسی طرح سے اپنے اپنے وقت پر سب نیکی کی توفیق دے۔ بھلا کوئی اس بزرگ سے پوچھے پیشگوئیوں کی سچائی ظاہر ہوگی اور دشمن روسیاہ نہ ایک کہ وہ فقرہ یا لفظ کہاں ہے جو کسی اشتہار میں اس عاجز دفعہ بلکہ کئی دفعہ رسوا ہوں گے۔ یہ خدائے تعالی کا فعل کے قلم سے نکلا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ لڑکا اسی ہے جو ابھی تک انہیں اندھا کر رکھا ہے ان کے دلوں حمل میں پیدا ہو گا اس سے ہرگز تخلف نہیں کرے گا۔ کو سخت کر دیا اور ہمارے دل میں درد اور خیر خواہی کا اگر میں نے کسی جگہ ایسا لکھا ہے تو میاں نبی بخش طوفان مچادیا سو اس مشکل کے حل کے لئے اسی کی صاحب پر واجب ہے کہ اس کو کسی اخبار میں جناب میں تضرع کرتے ہیں۔ اے خدا نوردہ ایں چھپادیں۔ اس عاجز کے اشتہارات پر اگر کوئی منصف تیرہ درونا نے را۔ یا مده در دگر هیچ خدا دانے را۔ آنکھ کھول کر نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوگا کہ ان میں والسلام على من اتبع الهدى المشتهر خاکسار غلام احمد مؤلف براہین احمدیہ از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب مطبوعہ ریاض ہند پر لیس امرتسر