سُرمہ چشم آریہ — Page 329
روحانی خزائن جلد ۲ ۳۱۷ سرمه چشم آریه صاحب لدھانوی نے اپنے اشتہار آٹھ جون کی بشارت دینا منجانب اللہ ہونے کا ثبوت نہیں ۱۸۸۶ء میں کی ہے یعنی یہ کہ مدت موعودہ حمل ہو سکتا۔ جس نے ارسطو کا ورکس دیکھا ہوگا حاملہ سے ( جونو برس ہے ) یا مدت معہودہ حمل سے (جو عورت کا قارورہ دیکھ کر لڑکا یا لڑکی پیدا ہونا ٹھیک طبیبوں کے نزدیک اڑھائی برس یا کچھ زیادہ ٹھیک بتلا سکتا ہے اور بعض مخالف مسلمان یہ بھی ہے) تجاوز نہیں کر سکتا۔ اگر حمل موجودہ میں حصر کہتے تھے کہ اصل میں ڈیڑھ ماہ سے یعنی پیشگوئی رکھنا مخصوص ہوتا تو عبارت یوں چاہیے تھی کہ اس بیان کرنے سے پہلے لڑکا پیدا ہو چکا ہے جس کو باقی مانده ایام حمل سے ہرگز تجاوز نہیں کرے گا اور اسی وجہ سے ہم نے اس اشتہار میں اشارہ بھی کر دیا تھا کہ وہ فقرہ مذکورہ بالا حمل موجودہ سے مخصوص فریب کے طور پر چھپا رکھا ہے اور عنقریب مشہور کیا جائے گا کہ پیدا ہو گیا ۔ سو یہ اچھا ہوا کہ نہیں ہے مگر جو دل کے اندھے ہیں وہ آنکھوں خدائے تعالی نے تولد فرزند مسعود موعو کو دوسرے وقت پر ڈال دیا ورنہ اگر اب کی دفعہ ہی پیدا کے اندھے بھی ہو جاتے ہیں۔ بالآ خر م یہ بھی لکھنا چاہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ ہوجاتا توان مصریات مذکورہ بالا کا کون فیصلہ کرتا لیکن اب تولد فرزند موصوف کی بشارت غیب کی طرف سے یہ ایک بڑی حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے اب کی دفعہ لڑ کا عطا نہیں کیا کیونکہ اگر محض ہے نہ کوئی حمل موجود ہے تا ارسطو کے وہ اب کی دفعہ ہی پیدا ہوتا تو ایسے لوگوں پر کیا اثر در کس یا جالینوس کے قواعد حمل دانی بالمعارضہ پڑ سکتا جو پہلے ہی سے یہ کہتے تھے کہ قواعد طبی کے پیش ہوسکیں اور نہ اب کوئی بچہ چھپا ہوا ہے تا وہ رو سے حمل موجودہ کی علامات سے ایک حکیم آدمی مدت کے بعد نکالا جائے بلکہ نو برس کے عرصہ تک بتلا سکتا ہے کہ کیا پیدا ہوگا اور پنڈت لیکھرام تو خود اپنے زندہ رہنے کا ہی حال معلوم نہیں اور نہ یہ پیشاوری اور بعض دیگر مخالف اس عاجز پر یہی الزام معلوم کہ اس عرصہ تک کسی قسم کی اولاد خواہ نخواہ (۳) رکھتے تھے کہ ان کو فن طبابت میں مہارت ہے پیدا ہو گی چہ جائیکہ لڑکا پیدا ہونے پر کسی اٹکل سے انہوں نے طب کے ذریعہ سے معلوم کر لیا ہوگا قطع اور یقین کیا جائے اخیر پر ہم یہ بھی ظاہر کہ لڑکا پیدا ہونے والا ہے اسی طرح ایک کرتے ہیں کہ اخبار مذکورہ بالا میں منشی محمد رمضان صاحب محمد رمضان نام نے پنجابی اخبار صاحب نے تہذیب سے گفتگو نہیں کی بلکہ دینی ۲۰ مارچ ۱۸۸۶ء میں چھپوایا کہ لڑکا پیدا ہونے مخالفوں کی طرح جا بجا مشہور افترا پردازوں سے