سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 270

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۰ متمتع ہوتے ہیں۔ ۲۱۰ ۲۵۸ سرمه چشم آریه قوله خدائے تعالیٰ جو خود بخود ہونے والی چیز ہے خدا کے اپنے کاموں سے بہت بڑھ کر ہے اور اس سے خدا کی کوئی ہتک نہیں ہوتی ۔ اقول ۔ بجز اس کے کیا کہوں کہ ۔ بریں عقل و دانش ہزار آفرین ۔ ہماری طرف سے تو اعتراض یہ تھا کہ جس حالت میں بقول آریہ صاحبان اصل پیدائش اشیاء خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں ۔ بلکہ جمیع اشیاء مادی و غیر مادی معہ تمام خواص و عجائبات اپنے کے خود بخود ہیں تو اس میں پرمیشر کی بڑی بہتک عزت ہے یعنی یہ امر اس کی بزرگی اور جلال اور حیثیت خدائی کے کسرشان کرتا ہے کہ جو چیزیں اس کے زیر حکم اور ماتحت ہیں وہ سب اپنے وجود اور اپنے ؟ پنے جمیع خواص میں جو اعلیٰ درجہ کے عجائبات قدرت سے بھرے ہوئے ہیں خود بخود ہوں اور جوادنی درجہ کا کام ہے جو پہلے کام کے سہارے سے چلتا ہے فقط وہی کام پر میشر کے ہاتھ سے نکلا ہو اس کا جواب ماسٹر صاحب یہ دیتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ جو خود بخود ہونے والی چیز ہے بقیہ رہتی ہے اور جیسی اللہ جل شانہ کو اپنی خوبی اور عظمت محبوب بالطبع ہے اسی طرح حاشیہ اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کرنا اس کے لئے محبوب بالطبع ہو جاتا ہے اور اپنے مخدوم حقیقی کی ہر ایک عادت وسیرت اس کی نظر میں ایسی پیاری ہو جاتی ہے کہ جیسی خود اس کو پیاری ہے۔ سو یہ مقام ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔ جن کے سینے محبت غیر سے بالکل منزہ وصاف ہو جاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ کی رضا مندی کو ڈھونڈنے کے لئے ہر ایک وقت جان قربان کرنے کو طیار رہتے ہیں ۔ سینہ می باید تهی از غیر یار ۔ دل ہمی باید پر از یاد نگار ۔ جاں ہمی باید براہ اوفدا۔ سرهمی باید بہ پائے اوشار ۔ پیچ دانی چیست دین عاشقاں ۔ گویمت گر بشنوی عشاق دار از همه عالم فروبستن نظر ۔ لوح دل شستن زغیر دوستدار ۔ قرب کی دوسری قسم ولد اور والد کے