سُرمہ چشم آریہ — Page 269
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۵۷ سرمه چشم آریہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پر میشر سے زیادہ تر کاریگر پیش نہیں کیا گیا ۔ جس نے ۲۰۹ خالق الارواح والا جسام ہونے کا دعوی کیا ہو سواب اے ماسٹر صاحب آنکھ کھول کر دیکھیں کہ وہ زیادہ تر کاریگر پیش تو کیا گیا اور اسی کی طرف تو ہم آپ کو دعوت کر رہے ہیں کہ آؤ فرضی پر میشر سے زیادہ تر کاریگر اور اس سے زیادہ تر جاننے والا اپنے کامل نشانوں کے ساتھ جلوہ گر ہوا ہے اس زیادہ تر عزت و حکمت و قدرت والے پر ایمان لاؤ جس نے اپنی عام قادریت ظاہر کی ہے جن چیزوں کو آپ لاوارث اور غیر مخلوق سمجھتے تھے ان کا وارث ظاہر ہو گیا ہے سو ادھورے اور وہمی پر میشر کو چھوڑ دو اور سچے اور کامل اور پورے پورے قادر کی فرمانبرداری اختیار کرو جس کی سچائی اس کی قدرتوں سے ثابت ہو رہی ہے۔ آپ لوگوں کا پہلا پر میشر حقیقت میں پر میشر نہیں ہے اور جوڑ نے جاڑنے کی بھی دراصل اس کو طاقت نہیں ہے بلکہ وہ کچھ بھی نہیں سچا پر میشر یہی ہے جو تمام دنیا کا مالک ہے کسی خاص ملک سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہر ایک ملک کے ڈھونڈنے والے اس کو پاتے ہیں سو آؤ دلی صدق سے اس کی طرف رجوع کرو تا تم بھی ان برکات سے حصہ یاب ہو جاؤ جن سے صادق لوگ بقيه حاشیه ہر گز نہیں ڈرتا غرض احمقا نہ تقلید سے وہ کوئی کام بھی نہیں کرتا بلکہ سچی اور کامل ۲۰۹ محبت کی وجہ سے اپنے آقا کا مزاج دان ہو جاتا ہے اور یک رنگی اور اتحاد کی روشنی جو اس کے دل میں ہے وہ ہر ایک تازہ وقت میں تازہ طور پر اس کو سمجھا دیتی ہے جو اس خاص وقت میں کیونکر اور کس طرز سے کوئی کام کرنا چاہیے جو مخدوم حقیقی کے منشاء کے مطابق ہو اور چونکہ اس کو اپنے منعم حقیقی سے ایک تعلق ذاتی پیدا ہو جاتا ہے اس لئے اطاعت اور فرمانبرداری اس کے سر پر کوئی آزار رساں بوجھ نہیں ہوتا بلکہ وہ فرمانبرداری اس کے ایک امر طبعی کے حکم میں ہو جاتی ہے جو بالطبع مرغوب اور بلا تصنع و تکلف اس سے صادر ہوتی