سُرمہ چشم آریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 548

سُرمہ چشم آریہ — Page 257

روحانی خزائن جلد ۲ ۲۴۵ سرمه چشم آریه سے وہ ظاہر ہو جاتا ہے مثلاً گھی اور شہد اور سوہاگہ میں یہ خاصیت ہے کہ ان تینوں ۱۹۷ کے ملانے سے یہ خاصہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر کسی کشتہ زر یا نقرہ وغیرہ کو جو بالکل خاکستر و خاک ہو گیا ہو اس میں رکھ کر بوتہ میں آگ دی جائے تو وہ زندہ ہو جاتا ہے یعنی اپنی اصلی صورت سونا چاندی یا جو کچھ ہو قبول کر لیتا ہے پس یہ خاصیت جو ان تینوں جزوں کی ترکیب سے کشتہ کے زندہ کرنے کے لئے پیدا ہو جاتی ہے یہ ایسی خاصیت ہے کہ خواہ ہندوؤں کا پرمیشر ان تینوں چیزوں کو باہم ملاوے اور خواہ ایک دس برس کا بچہ ان کو باہم مخلوط کرے دونوں کے ہاتھوں سے یہ خاصیت پیدا ہو گی یہ نہیں کہ ضرور پر یہ کہ ضرور پرمیشر کے ہاتھ سے ہی پیدا ہو اور دوسرے کسی رے کسی شخص کے ہاتھ سے پیدا نہ ہو سکے ۔ روحوں میں بہت سے خواص اور عجیب طاقتیں اور استعدادیں پائی جاتی ہیں جن کو قرآن شریف نے استیفا سے ذکر کیا ہے مثلاً ان میں چند قو تیں اور استعداد میں یہ ہیں جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں ۔ بقيه حاشیه ا۔ علوم اور معارف کی طرف شائق ہونے کی ایک قوت ۔ علوم کو حاصل کرنے کی ایک قوت ۔ تفتیش اس بات کی کہ وہ انسان کامل جس کو روحانی آفتاب سے تعبیر کیا گیا ہے ۱۹۷ وہ کون ہے اور اس کا کیا نام ہے یہ ایسا کام نہیں ہے جس کا تصفیہ مجرد عقل سے ہو سکے کیونکہ بجز خدائے تعالیٰ کے یہ امتیاز کس کو حاصل ہے اور کون مجرد عقل سے ایسا کام کر سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کے کروڑہا اور بے شمار بندوں کو نظر کے سامنے رکھ کر اور ان کی روحانی طاقتوں اور قوتوں کا موازنہ کر کے سب سے بڑے کو الگ کر کے دکھلاوے بلا شبہ عقلی طور پر کسی کو اس جگہ دم مارنے کی جگہ نہیں ہاں ایسے بلند اور عمیق دریافت کے لئے کتب الہامی ذریعہ ہیں جن میں خود