سُرمہ چشم آریہ — Page 256
روحانی خزائن جلد ۲ ۲۴۴ سرمه چشم آریه ۱۹۶) اتصالی قوت نہ پائی جائے جس کو قوت کشش اتصال کہتے ہیں تو ہندوؤں کے پرمیشر کو ١٩٦ ہرگز یہ طاقت نہیں ہے کہ کم سے کم دو ذروں میں بھی پیوند کر کے دکھلاوے اسی طرح جو جوڑ نے جاڑنے میں روحانی خواص نمایاں ہوتے ہیں ان میں بھی ہندوؤں کے پرمیشر کی ہرگز مجال نہیں ہے کہ بغیر حمایت و مدد روحوں اور ان کی عجیب خاصیتوں اور صفتوں کے جن کو ماسٹر صاحب بیج کی طرح خیال کرتے ہیں کوئی صنعت بنا کر دکھلا سکے۔ یہ بات تو نہایت درجہ پر ظاہر ہے کہ ایسے پر میشر کی جس نے نہ روحوں اور نہ ان کے خواص کو پیدا کیا اور نہ ذرات اجسام اور ان کی خاصیتوں کو خلعت وجود بخشا صرف جوڑ نے جاڑنے میں کچھ بھی ہنگ پھٹکری خرچ نہیں آتی بلکہ خواص پہلے ہی جدا جدا چیزوں میں کچھ پوشیدہ تھے وہ باہم روح اور جسم کے ملنے سے خود بخودنمایاں طور پر نظر آ جاتے ہیں کیونکہ ان میں پہلے ہی سے یہ خاصیت چھپی ہوئی ہوتی ہے کہ باہم ملنے سے خواہ نخواہ ان کا ظہور ہو جاتا ہے جیسے دنیا کی لاکھوں چیزوں میں یہی خاصہ پایا جاتا ہے کہ ان کے باہمی امتزاج اور اختلاط سے ایک عجیب قسم کا خاصہ پیدا ہو جاتا ہے کہ جو الگ الگ ہونے کی حالت میں مخفی و محجوب ہوتا ہے۔ سو یہ بات ہرگز نہیں کہ جو شخص ان دو چیزوں کو باہم ملاتا ہے وہ اپنے گھر سے ایک خاصہ لاکر ان میں ڈال دیتا ہے بلکہ جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے وہ دونوں چیزیں الگ الگ طور پر وہ خاصہ اپنے اندر رکھتی ہیں جو ان کے اکٹھے ہو جانے بقيه حاشیه وحدت اسے محبوب بھی ہے تو اس قانون قدرت کے ماننے سے ہمیں یہ بھی ماننا پڑا کہ جیسے خدائے تعالیٰ نے جمادی سلسلہ میں ایک ذرہ سے لے کر اس وجود اعظم تک یعنی آفتاب تک نوبت پہنچائی ہے جو ظاہری کمالات کا جامع ہے جس سے بڑھ کر اور کوئی جسم جمادی نہیں ایسا ہی روحانی آفتاب بھی کوئی ہوگا جس کا وجود خط مستقیم مثالی میں ارتفاع کے اخیر نقطہ پر واقع ہو اب