سُرمہ چشم آریہ — Page 80
روحانی خزائن جلد ۲ ۶۸ سرمه چشم آریه ۲۰ اور نہ آگے کو اس کی لیاقت و طاقت ایسی نظر آتی ہے کہ اس مالک الملک کے وراء الوراء بھیدوں کے ایک چھوٹے سے رقبہ زمین کی طرح پیمائش کر سکے یا کسی ایک چیز کے جمیع خواص پر احاطہ کرنے کا دم مار سکے مجھے ان صاف باطن لوگوں کے آگے منطقی دلائل کی حاجت نہیں جو اپنے اس پیارے ۲۰ بقیه ہو کر اکثر حصہ دنیا میں پھیل گیا اور ہر یک موقعہ پر کیا کیا عجیب تائیدات الہیہ اس کی حاشیه حمایت میں ظہور میں آتی رہیں۔ اب ہم بیرونی معجزات کا بیان (جو اعجازی تصرفات ہیں ) اسی قدر کافی سمجھ کر ان معجزات کی تشریح کچھ زیادہ کرنا چاہتے ہیں جو قرآن شریف کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کی بطنی اور نفسی خاصیتیں ہیں کیونکہ اس قسم کے معجزات باعث دائمی شہود اور وجود کے قوی الاثر ہیں جن کو ہر ایک طالب صادق اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے اور ہر ایک منصف کی نظر میں بالضرورت قابل یقین ٹھہر سکتے ہیں ۔ سواؤل جاننا چاہیے کہ معجزہ عادات الہیہ میں سے ایک ایسی عادت یا یوں کہو کہ اس قادر مطلق کے افعال میں سے ایک ایسا فعل ہے جس کو اضافی طور پر خارق عادت کہنا چاہیے پس امر خارقِ عادت کی حقیقت صرف اس قدر ہے کہ جو پاک لوگ عام طریق و طرز انسانی سے ترقی کر کے اور معمولی عادات کو پھاڑ کر قرب الہی کے میدانوں میں آگے قدم رکھتے ہیں تو خدائے تعالیٰ حسب حالت ان کے ایک ایسا عجیب معاملہ ان سے کرتا ہے کہ وہ عام حالات انسانی پر خیال کرنے کے بعد ایک امر خارق عادت دکھائی دیتا ہے اور جس قدر انسان اپنی بشریت کے وطن کو چھوڑ کر اور اپنے نفس کے حجابوں کو پھاڑ کر عرصات عشق و محبت میں دورتر چلا جاتا ہے اسی قدر یہ خوارق نہایت صاف اور شفاف اور روشن و تابان ظہور میں آتے ہیں ۔ جب تزکیہ نفس انسانی کمال تام کی حالت پر پہنچتا ہے اور اس کا دل غیر اللہ سے بالکل خالی ہو جاتا ہے اور محبت الہی سے بھر جاتا ہے تو اس کے تمام اقوال وافعال و اعمال وحركات وسكنات وعبادات