سُرمہ چشم آریہ — Page 79
روحانی خزائن جلد ۲ ۶۷ سرمه چشم آریه یہ کہتا ہوں کہ خدائے ذوالجلال کی تعظیم کر کے اس کے نئے کاموں کی نسبت ( جو تمہاری محدود نظروں ۱۹ میں نئے دکھائی دیتے ہیں ) بے جا ضد بھی مت کرو کیونکہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں خدائے تعالیٰ کی عجائب قدرتوں اور دقائق حکمتوں اور پیچ در پیچ اسراروں کے ابھی تک انسان نے بکلی حد بست نہیں کی بقیہ اور خدائے تعالیٰ نے ان چند کنکریوں سے مخالفین کے بڑے بڑے سرداروں کو سراسیمہ 19 حاشیه اور اندھا اور پریشان کر کے وہیں رکھا اور ان کی لاشیں انہیں مقامات میں گرائیں جن کے پہلے ہی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ نشان بتلا رکھے تھے۔ ایسا ہی اور کئی عجیب طور کے تائیدات و تصرفات الہیہ کا (جو خارق عادت ہیں ) قرآن شریف میں ذکر ہے جن کا ماحصل یہ ہے کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مسکینی اور غریبی اور یتیمی اور تنہائی اور بے کسی کی حالت میں مبعوث کر کے پھر ایک نہایت قلیل عرصہ میں جو تیس برس سے بھی کم تھا ایک عالم پر فتح یاب کیا اور شہنشاہ قسطنطنیہ و با دشاہان دیار شام و مصر و ممالک ما بین دجله و فرات وغیرہ پر غلبہ بخشا اور اس تھوڑے ہی عرصہ میں فتوحات کو جزیرہ نما عرب سے لے کر دریائے جیحون تک پھیلایا اور ان ممالک کے اسلام قبول کرنے کی بطور پیشگوئی قرآن شریف میں خبر دی اس حالت بے سامانی اور پھر ایسی عجیب و غریب فتحوں پر نظر ڈال کر بڑے بڑے دانشمند اور فاضل انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے کہ جس جلدی سے اسلامی سلطنت اور اسلام دنیا میں پھیلا ہے اس کی نظیر صفحہ تو اریخ دنیا میں کسی جگہ نہیں پائی جاتی اور ظاہر ہے کہ جس امر کی کوئی نظیر نہ پائی جائے اسی کو دوسرے لفظوں میں خارق عادت بھی کہتے ہیں۔ غرض قرآن شریف میں تصرفات خارجیہ کا ذکر بھی بطور خارق عادت بہت جگہ آیا ہے بلکہ ذرا نظر کھول کر دیکھو تو اس پاک کلام کا ہر یک مقام تائیدات الہیہ کا نقارہ بجارہا ہے اور ایک تصویر کھینچ کر دکھلا رہا ہے کہ کیونکر اسلام اپنی اول حالت میں ایک خورد تربیج کی طرح دنیا میں بویا گیا اور پھر وہ تھوڑے ہی عرصہ میں جو خارق عادت ہے کیسا بزرگ و عظیم القدر