سچائی کا اظہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 502

سچائی کا اظہار — Page 177

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۷۵ جنگ مقدس اپنے آپ کو فرو کیا۔ موجب فلپیوں کی ۲ باب ۶ آیت ۔ ساتواں ۔ رائی - کے دانہ پر آپ کے پیر پھر پھیلے اور پہاڑوں پر جا ٹھہرے اور کیسی عجب جوتی آپ نے پشمینہ میں لپیٹ کر ہمارے سر پر چلائی کہ جاگو اٹھو ورنہ رائی بھر ایمان نہیں رہتا۔ آپ نہ گھبرائیے ایمان کہیں نہیں جاتا ہے خدمت میں عرض کیا گیا کہ یہ فرمانا صرف رسولوں کے لئے ہے نہ ہمارے ۔ ے لئے ۔ بلکہ صاف پہلے قرنطیوں کے میں یہ آگیا کہ ایمان تو تم میں اتنا ہو کہ پہاڑ بھی ہل جاویں اور محبت نہ ہو تو عبث ہے اور معجزات کے حق میں جو آپ نے مرقس کے ۶ اباب کو بنیاد جان کر عمارت عالی شان تیار کی تھی سو ہیچ ہے اس لئے کہ بنیا د خام (۸۵) ہے۔ صاف آپ پر ظاہر کیا گیا کہ رسول مسیح کے بے ایمانی کی حالت میں بھی ایمان لاتے ہیں ان کو فرمایا جاتا ہے کہ اب تمہارے ساتھ یہ نشانیاں ہوں گی ۔ لفظ یونانی ہے۔ پس ٹی آئی اس کے معنے ہیں جو ایمان لائے ہیں حال میں اور صیغہ یہ ہرگز نہیں جو ایمان لاویں گے بلکہ رسولوں کے زمانہ میں اختیار ہر ایک کو نہ تھا بدن ایک عضو مختلف ۔ حواری پوچھتا ہے کیا سب آنکھ ہیں سب کان ہیں اور فرماتا ہے کیا سب معجزہ دکھاتے ہیں اور کرامات کرتے ہیں اور بیماروں کو چنگا کرتے ہیں علی هذا القياس جیسے عرض کر چکا۔ اور پھر صاف لکھا ہے بہر حالت کہ یہ جو خاص عنایات ہیں بند ہو جائیں گی اور تا ابد جو رہے گی سو محبت ہے خداوند نے صاف صاف فرما دیا کہ دائمی نشان جس سے دنیا جانے گی کہ تم میرے ہو نہ کرامات و معجزہ پر محبت ہے دیکھو یوحنا کا ۱۳ باب ۳۴ و ۳۵۔ اس سے سب جانیں گے کہ تم میرے شاگرد ہو۔ آپ نے پھر پوچھا کہ یوحنا باب کے موجب آپ پر فرض ہے کہ جو کام مسیح نے کئے سو آپ کریں بلکہ اس سے بڑھ کر کریں۔ جناب من ! آپ متن پر تو غور کریئے یہاں تو اپنے حواریوں سے مخاطب ہیں نہ مجھ سے نہ آپ سے۔ جو کام میں کرتا رہا۔ تم پھر کرتے رہو گے ۔ آپ نے فرمایا۔ اور بلاشبہ انہوں نے کئی دیو نکالے۔سانپ پکڑے۔ مردے جلائے۔ اور ان سے بڑھ کر تم کام کرو گے کیونکہ میں باپ پاس جاتا ہوں اور یہ حق ہے ایسا ہی ہوا۔ کیونکہ المسیح کی منادی سے تھوڑے ہی ایمان لائے۔ پطرس کی ایک منادی سے یک لخت