سچائی کا اظہار

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 502

سچائی کا اظہار — Page 176

روحانی خزائن جلد ۶ ۱۷۴ جنگ مقدس جن کے پاس کلام پہنچا اور ان کا اتنا درجہ ہو گیا تو تم کلام مجسم کو کہتے ہو کہ تو کفر بکتا ہے۔ حیف تمہاری عقلوں پر۔ وہ خاص لفظیں جو غور کے لائق ہیں دو ہیں مخصوص کیا اور بھیجا۔ آپ نے تو چند عبارات لکھائی تھیں کہ ان میں بھی یہ ہیں۔ لیکن تلاش کرنے سے پتہ ندارد۔ آپ کے حوالہ غلط نکلے۔ یونا نے بھی جیسے آپ کی ۸۴) خدمت میں عرض کر دی ۔ آپ نے فرمایا بہت اور حوالہ ہیں اطلاع نہ بخشی کسی کی ۔ اس پر غور کرئیے۔ بھیجا مسیح کا بھیجا جانا اور ہی طرح کا تھا۔ یوحنا باب باپ میں سے نکلا اور دنیا میں آیا ہوں ۔ اگر اس میں الوہیت کا انکار ہے تو آپ فرمائیے کہ کسی بندہ نے کہا کہ ” میں باپ میں سے نکلا اور پھر باپ پاس جاتا ہوں۔ جناب کا یہ فرمانا کہ اسیح کو بھیجا ہے بجا نہیں ۔ ہمارا حق نہیں کہنا کہ یوں ہو یا ہوں ۔ جو باتیں ہو چکی ہیں ان کے موجب فیصلہ کرنا ہے ورنہ ہم صاف کہہ دیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور ان کے بزرگ نبیوں سے دانا ہیں ہم ہوتے تو یوں کہتے ۔ یہ دانائی نہیں یہ اختراع ہے۔ سکندر اعظم کے ایک جرنیل تھے بنام پارمینیو ۔ جب ایران کو سکندراعظم نے فتح کر لیا پار مینیو کہنے لگے میں اگر سکندراعظم ہوتا تو دارا کی بیٹی کو اپنی شادی میں لے کے اس ملک سے باہر نہ جاتا۔ سکندر اعظم نے فرمایا کہ اگر میں پارمینیو ہوتا تو میں بھی ایسا ہی کرتا اور چونکہ میں سکندراعظم ہوں نہ پارمینیو میں کچھ اور کروں گا۔ لہذا چونکہ اس وقت المسیح تھے نہ کہ مرزا صاحب ۔ اور یا درکھئے کہ فقط یہ ہی ایک گفتگو یہودیوں کی نہیں ہوئی کہ سب کچھ اسی وقت ہو جاوے تین برس تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پنجم ۔ اگر مسیح خالق تھے تو انہوں نے کیا بنایا۔ موجب فتویٰ الہی کے یوحنا باب اول جواب اس کا ہے سب کچھ۔ اگر اس فتوے سے مرزا صاحب گریز کرتے ہیں تو انجیل کو ہی رد کر دیویں تو اس کو ایک کتاب انسانی و نفسانی و جھوٹوں کی بھری ٹھہرا دیویں۔ ششم ۔ جب آپ انسان بنے تو صفات ا مات الله کہاں گئی ۔ یہ ا۔ یہ مرزا صاحب کا سوال ہے جواب بہت مختصر اور چھوٹا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ تا ابد مبارک تھے اور ہیں۔ انہوں نے