سرّالخلافة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 207 of 512

سرّالخلافة — Page 207

روحانی خزائن جلد ۸ ۲۰۷ نور الحق الحصة الثانية لهم أن يكتبوا حديثا في صحاحهم وهم يعلمون أنه <mark>لا</mark> أصل له، بل في رواته | بعید تھا کہ وہ ایک حدیث کو اپنے صحاح میں داخل کرتے باوجود اس بات کے کہ وہ جانتے تھے کہ وہ حدیث بے اصل ہے رجل من الكذابين الدجالين۔ أخلطوا الخبيث بالطيب بعد ما كانوا <mark>على</mark> خُبثه اور اس کے بعض راوی کذاب اور دجال ہیں کیا انہوں نے خبیث کو طیب سے م<mark>لا</mark> دیا بعد اس بات کے کہ وہ خبیث کے مستيقنين؟ وإن كان هذا هو الحق فما بال الذين خلطوا قذرًا بالماء المعين حبت پر یقین رکھتے تھے اور اگر یہی سچ ہے تو ان لوگوں کا کیا حال ہے جنہوں نے پلیدی کو آب صاف کے ساتھ متعمدين وهم كانوا أوّل عالم بأحوال الرواة المفترين۔ أهم صلحاء عندكم؟ م<mark>لا</mark> دیا اور وہ مفتریوں کے حا<mark>لا</mark>ت سے خوب واقف تھے کیا وہ تیرے نزدیک صالح ہیں ك<mark>لا</mark> بل هم أوّل الفاسقين۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أو كان نہیں بلکہ اول درجہ کے فاسق ہیں اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یا معين روايات الكاذبين؟ أفأنت تشهد أن الدارقطني وجميع روايات هذا جھوٹوں کی روایتوں کا مددگار ہے کیا تو گواہی دیتا ہے کہ دار قطنی اور تمام راوی اس حدیث کے الحديث وناقلوه في كتبهم وخالطوه في الأحاديث من أول الزمان <mark>إلى</mark> هذا اور تمام وہ لوگ جنہوں نے اپنی کتابوں میں اس حدیث کو نقل کیا اور حدیثوں میں م<mark>لا</mark>یا اول زمانہ الأوان كانوا من المفسدين الفاسقين وما كانوا من الصالحين؟ وأنت تجد سے اس زمانہ تک مفید اور فاسق ہی گذرے ہیں اور صالح آدمی نہیں تھے اور كتب الـقـوم مـمـلوّةً من الحديث الذي سميته موضوعًا في مقالك مع تو قوم کی کتابوں کو اس حدیث سے پُر پائے گا جس کا نام تو موضوع رکھتا ہے زيادة علمهم منك ومن أمثالك، ومع زيادة اط<mark>لا</mark>عهم <mark>على</mark> حقيقة باوجود اس کے جو ان کا علم تجھ سے اور تیرے ہم مثل لوگوں سے زیادہ ہے اور پھر وہ تجھ سے زیادہ تر اشتبهت <mark>على</mark> خيالك ف<mark>لا</mark> تتبع جذبات نفسك وفكر كالمتقين۔ اصل حقیقت پر اط<mark>لا</mark>ع رکھتے ہیں پس تو اپنے نفس کے جذبات کا طالب نہ ہو اور نیک بخت بن جا۔ ا<mark>لا</mark>نعام: ۲۲