سرّالخلافة — Page 206
روحانی خزائن جلد ۸ ۲۰۶ نور الحق الحصة الثانية وقال المعاندون والعلماء المتعصّبون إن هذا الحديث ليس بصحيح، بل هو کوئی مکذب نہ ہوگا اور متعصب معاندوں اور متعصب مولویوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے بلکہ وہ قول كذاب وقيح وما لهم بذلك من عـلــم، كبرت كلمة تخرج من کسی جھوٹے بے شرم کا قول ہے اور ان مولویوں کے پاس اس تکذیب پر کوئی دلیل نہیں بہت بڑی بات ہے جو أفواههم، إن يقولون إلا كذبا، وكذبوا ما أظهر الله۔ صدقه وجلى، ما كان ان کے منہ سے نکل رہی ہے سراسر جھوٹ کہتے ہیں اور انہوں نے اس حدیث کی تکذیب کی جس کی خدا تعالیٰ نے سچائی حديثًا يُفترى، ولكن عُمِّيتُ عليهم وطبع على قلوبهم طبعا ۔ يا حسرةً عليهم ظاہر کر دی یہ حدیث ایسی نہیں جو انسان کا افترا ہو سکے لیکن ان کی بینائی جاتی رہی اور ان کے دلوں پر مہر لگ گئی لم ينكرون الحق معاندين؟ ما لهم لا يتقون يوم الدين؟ ما لهم لا يفكرون في ان پر حسرت ہے کیوں وہ معاند بن کر حق سے انکار کرتے ہیں کیوں جزا سزا کے دن سے نہیں ڈرتے کیوں نہیں سوچتے أنفسهم أنه حديث قد أنار صدقه، ولا يصدق الله قول الكذابين؟ وما كان کہ یہ ایک حدیث ہے جس کی سچائی ظاہر ہو گئی اور خدا تعالیٰ جھوٹوں کے قول کو بھی سچا نہیں کرتا اور خدا ایسا نہیں کہ جھوٹے الله ليُطلع على غيبه كاذبًا دجالا عدو الصادقين، وقد علمت ما جاء في دجال کو جو سچوں کا دشمن ہے اپنے غیب پر مطلع فرمادے اور اس بارے میں جو کچھ قرآن میں ہے تجھے معلوم ہے کتاب مبين وكيف يكذبونه وإن ظهور صدقه يشهد بشهادة واضحة أنه اور کیونکر انکار کرتے ہیں حالانکہ پیش گوئی کا سچا ہو جانا صاف گواہی دے رہا ہے کیونکہ حدیث رسول صادق امین كلام رسول صدوق أمين۔ وكان الإمام محمد الباقر من أئمة المهتدين اور امام محمد باقر ہدایت یافتہ اماموں میں وفلذة الإمام الكامل زين العابدين۔ وفي سلسلة الحديث رجال من الصادقين امام زین العابدین کا گوشہ جگر تھا اور نیز حدیث کے سلسلہ میں سچے آدمی موجود ہیں الذين كانوا يعرفون الكاذبين وكذبهم وما كانوا مستعجلين۔ وما كان ایسے آدمی جو جھوٹوں اور ان کے جھوٹ کو شناخت کرتے تھے اور جلد باز نہیں تھے اور یہ ان سے کی ہے۔ سے اور