سرّالخلافة — Page 148
روحانی خزائن جلد ۸ دے ۱۴۸ ادیبوں کے نزدیک نور الحق الحصة الأولى بصحيح، ولا نجد فيه غير المعاني المطروقة الموارد والكلام الرقيق | صحیح بھی نہیں ہے اور اس میں معانی مطروقہ الموارد پائے جاتے ہیں اور اس میں الفاظ رقیق البارد، وما جئت بأطيب وأحلى، وفيه ألفاظ كذا وكذا، وإنك أسقطت موجود ہیں اور تو نے اپنی کلام میں غلطی کی ہے اور مطلب سے دور جا پڑا في كلامك وباعدت عن مرامك ولست من المجيدين؛ فلا حاجة إلى ہے اور کوئی نکتہ تیری کلام میں نہیں بلکہ اس میں تو ایسے ایسے لفظ ہیں پس کچھ حاجت نہیں أن نأتي بمثله من الأقوال، أو نتوازن في المقال، ونتحاذى حذو النعال کہ ہم اس کی کوئی نظیر بناویں یا اس سے نعل بنعل مقابلہ کریں ہم سے الگ ہو اور اپنی کلام کی فإليك عنا وتجاف، واترك الأوصاف، فإن كلامك سقط عند الأدباء تعریفیں چھوڑ کیونکہ تیرا کلام مشہور المشهورين والفصحاء الماهرين۔ ولكنهم ما سروا ذلك المسرى، وما روی ہے مگر کفار عرب اس راہ نہیں چلے اور اس دعوی میں انہوں نے کچھ قدحوا في هذا الدعوى، بل قبلوا أعلى مراتب بلاغته، وعجبوا لعلو شأن جرح قدح نہیں کیا بلکہ انہوں نے تو قرآن کے اعلیٰ مراتب بلاغت کو قبول کر لیا اور اس کی عظیم الشان فصاحت سے تعجب فصاحته، وقالوا إن هذا إلا سحر مبين۔ وأكثر هم آمنوا بإعجازه وأقروا میں رہ گئے اور کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔ اور اکثر ان کے اس قرآنی معجزہ پر ایمان لائے اور اقرار کر لیا کہ اس کے باز کی بتناوش بازه، وعجزوا عن درك هندازه، وقالوا كلام فاق كلمات البشر، سخت پکڑیں ہیں اور اس کی حقیقت کی دریافت سے عاجز رہ گئے اور کہا کہ یہ ایک کلام ہے کہ کلمات بشر پر غالب آ گیا اور وكله لب وليس معه شيء من القشر، وعليه طلاوة، وفيه حلاوة، وهو وہ سارے کا سارا مغز ہے اور اس کے ساتھ چھلکا نہیں اور اس پر ایک آب و تاب ہے اور اس میں ایک حلاوت ہے اور وہ غدق لا ينفد من شُرب الشاربين ومـا نبـسـوا بكلمة في قدح شأنــه ایک بے اندازہ اور بکثرت مصفا پانی ہے جو پینے والوں کے پینے سے ختم نہیں ہوتا ۔ اور قرآن کے قدح شان